🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب الميت يعذب ببكاء اهله عليه:
باب: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 927 ترقیم شاملہ: -- 2147
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ أَبُو يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ أَقْبَلَ صُهَيْبٌ مِنْ مَنْزِلِهِ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُمَرَ، فَقَامَ بِحِيَالِهِ يَبْكِي، فَقَالَ عُمَرُ : عَلَامَ تَبْكِي أَعَلَيَّ تَبْكِي؟ قَالَ: إِي وَاللَّهِ لَعَلَيْكَ أَبْكِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ يُبْكَى عَلَيْهِ يُعَذَّبُ ". قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، فَقَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ، تَقُولُ: إِنَّمَا كَانَ أُولَئِكَ الْيَهُودَ.
عبدالملک بن عمیر نے ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو صہیب رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے آئے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اندر داخل ہوئے اور ان کے سامنے کھڑے ہو کر رونے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیوں رو رہے ہو؟ کیا مجھ پر رو رہے ہو؟ کہا: اللہ کی قسم! ہاں، امیر المومنین! آپ ہی پر رو رہا ہوں۔ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تمہیں خوب علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’جس پر آہ و بکا کی جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے۔‘ (عبدالملک بن عمیر نے) کہا: میں نے یہ حدیث موسیٰ بن طلحہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں: (یہ) یہودیوں کا معاملہ تھا۔ (دیکھیے حدیث نمبر 2153) [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2147]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ زخمی ہوگئے تو صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر سے آئے حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس اندر داخل ہوئے اور ان کے سامنے کھڑے ہو کر رونے لگے، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا: کیوں رو رہے ہو؟ کیا مجھ پر رو رہے ہو؟ کہا: اللہ کی قسم!ہاں،امیر المومنین! آپ ہی پر رو رہا ہوں عمر نے کہا: اللہ کی قسم! تمھیں خوب علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس پر رویا جاتا ہے اسے عذاب دیا ہوتا ہے۔راوی کا بیان ہے۔ یہ حدیث میں نے موسیٰ بن طلحہ کو سنائی، تو اس نے کہا،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی تھیں،اس سے مراد تو بس یہود تھے۔ (ان کوکفر کی بنا پر عذاب ہوتا ہے، جبکہ گھروالے رو رہے ہوتے ہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2147]
ترقیم فوادعبدالباقی: 927
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسى
Newعبد الله بن قيس الأشعري ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة
Newأبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥عبد الملك بن عمير اللخمي، أبو عمرو، أبو عمر
Newعبد الملك بن عمير اللخمي ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
صدوق حسن الحديث
👤←👥شعيب بن صفوان الثقفي، أبو يحيى
Newشعيب بن صفوان الثقفي ← عبد الملك بن عمير اللخمي
مقبول
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن
Newعلي بن حجر السعدي ← شعيب بن صفوان الثقفي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1290
الميت ليعذب ببكاء الحي
صحيح مسلم
2146
الميت ليعذب ببكاء الحي
صحيح مسلم
2147
من يبكى عليه يعذب
سنن ابن ماجه
1594
الميت يعذب ببكاء الحي قالوا واعضداه واكاسياه واناصراه واجبلاه
بلوغ المرام
476
الميت يعذب في قبره بما نيح عليه