الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب الميت يعذب ببكاء اهله عليه:
باب: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 929 ترقیم شاملہ: -- 2151
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ : كُنَّا فِي جَنَازَةِ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَنُصَّ رَفْعَ الْحَدِيثِ عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا نَصَّهُ أَيُّوبُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، وَحَدِيثُهُمَا أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرٍ.
عمرو بن دینار نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام ابان کے جنازے میں (حاضر) تھے۔۔۔ اور مذکورہ حدیث بیان کی، انہوں (عمرو) نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے (آگے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت مرفوع ہونے کی صراحت نہیں کی جس طرح ایوب اور ابن جریج نے اس کی صراحت کی ہے اور ان دونوں کی حدیث سے زیادہ مکمل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2151]
عمرو، ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی اُم ابان کے جنازے میں حاضر تھے۔ اور مذکورہ حدیث بیان کی، لیکن عمرو نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کو صراحتاً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا جبکہ ایوب اور ابن جریج نے آپ کی طرف نسبت کی صراجت کی ہے اور ان دو نوں کی حدیث سے زیادہ کامل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2151]
ترقیم فوادعبدالباقی: 929
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي