صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب في غسل الميت:
باب: میت کو غسل دینا۔
ترقیم عبدالباقی: 939 ترقیم شاملہ: -- 2176
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُنَّ فِي غَسْلِ ابْنَتِهِ: " ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا ".
اسماعیل بن علیہ نے خالد سے، انہوں نے حفصہ سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے بارے میں ان سے فرمایا: ”ان کی دائیں جانب سے اور ان کے وضو کے اعضاء سے آغاز کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2176]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے وقت فرمایا تھا: ”اس کے دائیں اطراف اور وضوء کی جگہوں سے آغاز کرنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2176]
ترقیم فوادعبدالباقی: 939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2176 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2176
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
میت کو غسل دیتے وقت سب سے پہلے اسے وضوکرایا جائے گا۔
اور وضوکے لیے عام طور پر استنجاء کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔
اس لیے پیٹ صاف کر کے،
استنجا کروانے کے بعد وضو کرایا جائے گا اور نہلاتے وقت بھی دائیں طرف سے شروع کیا جائے گا اور پھر اسے حسب ضرورت طاق دفعہ غسل دیا جائےگا۔
فوائد ومسائل:
میت کو غسل دیتے وقت سب سے پہلے اسے وضوکرایا جائے گا۔
اور وضوکے لیے عام طور پر استنجاء کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔
اس لیے پیٹ صاف کر کے،
استنجا کروانے کے بعد وضو کرایا جائے گا اور نہلاتے وقت بھی دائیں طرف سے شروع کیا جائے گا اور پھر اسے حسب ضرورت طاق دفعہ غسل دیا جائےگا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2176]
حفصة بنت سيرين الأنصارية ← أم عطية الأنصارية