صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
35. باب كراهة المسالة للناس:
باب: لوگوں سے سوال کرنے کی کراہت۔
ترقیم عبدالباقی: 1040 ترقیم شاملہ: -- 2396
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَزَالُ الْمَسْأَلَةُ بِأَحَدِكُمْ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ، وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ "،
عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے معمر سے، انہوں نے (امام زہری کے بھائی) عبداللہ بن مسلم سے، انہوں نے حمزہ بن عبداللہ (بن عمر) سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کے ساتھ سوال چمٹا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے ملے گا تو اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2396]
حمزہ بن عبداللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص سوال کرتا رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ کو اس حالت میں ملے گا کہ اس کے چہرہ پر گشت کا ٹکڑا بھی نہ ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2396]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1040
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
حمزة بن عبد الله المدني ← عبد الله بن عمر العدوي