صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
41. باب التحزير من الا غترار بزينة الدنيا وما يبسط منها
باب: دنیا کی کشادگی اور زینت پر مغرور مت ہو۔
ترقیم عبدالباقی: 1052 ترقیم شاملہ: -- 2421
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: " لَا وَاللَّهِ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ إِلَّا مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا "، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟، فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: " كَيْفَ قُلْتَ "، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ أَوَ خَيْرٌ هُوَ، إِنَّ كُلَّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ، إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَلَأَتْ خَاصِرَتَاهَا، اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ ثَلَطَتْ أَوْ بَالَتْ، ثُمَّ اجْتَرَّتْ فَعَادَتْ فَأَكَلَتْ، فَمَنْ يَأْخُذْ مَالًا بِحَقِّهِ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ يَأْخُذْ مَالًا بِغَيْرِ حَقِّهِ، فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ ".
عیاض بن عبداللہ بن سعد سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”نہیں اللہ کی قسم! لوگو! مجھے تمہارے بارے کسی چیز کا ڈر نہیں سوائے دنیا کی اس زینت کے جو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ظاہر کرے گا۔“ ایک آدمی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! کیا خیر شر کو لے آئے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھڑی بھر خاموش رہے پھر فرمایا: ”تم نے کس طرح کہا؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عرض کی تھی کیا خیر شر کو لائے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”خیر خیر ہی کو لاتی ہے لیکن کیا وہ (دنیا کی زیب و زینت فی ذاتہ) خیر ہے؟ وہ سب کچھ جو بہار لگاتی ہے (جانور کو) اپھارے سے مار ڈالتا ہے یا موت کے قریب کر دیتا ہے ایسے سبزہ کھانے والے جانور کے سوا جس نے کھایا اور جب اس کی کوکھیں بھر گئیں (وہ سیر ہو گیا) تو (مزید کھانے کے بجائے) اس نے سورج کا رخ کر لیا اور بیٹھ کر گوبر یا پیشاب کیا پھر جگالی کی اور دوبارہ کھایا تو (اسی طرح) جو انسان اس (مال) کے حق کے مطابق مال لیتا ہے اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جو انسان اس کے حق کے بغیر مال لیتا ہے وہ اس کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2421]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: نہیں اللہ کی قسم! مجھے تمھارے بارے۔اے لوگو! دنیا کی زیب و زینت جو تمھیں حاصل ہو گی کے سوا اور کس چیز کا خطرہ یا خدشہ و اندیشہ نہیں ہے۔ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر، شر کا سبب بنے گا؟ (خیر کے نتیجہ میں شر پیدا ہو گا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ وقت کے لیے خاموش ہو گئے پھر فرمایا: ”تم نے کیا کہا تھا؟“ اس نے کہا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے عرض کیا تھا کیا خیرکے سبب شر پیدا ہو سکتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”خیر، خیر ہی کا پیش خیمہ ہوتا ہے لیکن کیا دنیا کی زیب و زینت اور اس کی بھجت و رونق خیر ہے جو سبزہ موسم بہارا گاتا ہے وہ اپھارے سے مارڈالتا ہے یا قریب المرگ کر دیتا ہے مگر سبزہ کھانے والا وہ جانور جو کھاتا ہے اور جب اس کی کوکھیں بھر جاتی ہیں (وہ سیر ہو جاتا ہے) وہ سورج کا رخ کرتا ہے اور بیٹھ کر گوبر اور پیشاب کرتا ہے پھر جگالی کرتا ہے اور ہضم کرنے کے بعد دوبارہ چرنے چگنے لگتا ہے تو جو انسان مال جائز طریقہ سے لیتا ہے اس کے لیے وہ برکت کا باعث بنتا ہےاور جو انسان مال ناجائز طریقہ سے حاصل کرتا ہے وہ اس انسان کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2421]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1052
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
عياض بن عبد الله العامري ← أبو سعيد الخدري