صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
41. باب التحزير من الا غترار بزينة الدنيا وما يبسط منها
باب: دنیا کی کشادگی اور زینت پر مغرور مت ہو۔
ترقیم عبدالباقی: 1052 ترقیم شاملہ: -- 2422
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا "، قَالُوا: وَمَا زَهْرَةُ الدُّنْيَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " بَرَكَاتُ الْأَرْضِ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ قَالَ: " لَا يَأْتِي الْخَيْرُ إِلَّا بِالْخَيْرِ، لَا يَأْتِي الْخَيْرُ إِلَّا بِالْخَيْرِ، لَا يَأْتِي الْخَيْرُ إِلَّا بِالْخَيْرِ، إِنَّ كُلَّ مَا أَنْبَتَ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ، إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ، فَإِنَّهَا تَأْكُلُ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ، ثُمَّ اجْتَرَّتْ وَبَالَتْ وَثَلَطَتْ، ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ وَوَضَعَهُ فِي حَقِّهِ، فَنِعْمَ الْمَعُونَةُ هُوَ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ ".
زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر دنیا کی اس شادابی اور زینت سے ہے جو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ظاہر کرے گا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: دنیا کی شادابی اور زینت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”زمین کی برکات۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا خیر شر کو لے آتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”خیر سوائے خیر کے کچھ نہیں لاتی خیر سوائے خیر کے کچھ نہیں لاتی خیر سوائے خیر کے کچھ نہیں لاتی خیر سوائے خیر کے کچھ نہیں لاتی وہ سب کچھ جو بہار اگاتی ہے وہ (زیادہ کھانے کی وجہ سے ہونے والی بدہضمی کا سبب بن کر) مار دیتی ہے یا موت کے قریب کر دیتی ہے سوائے اس چارہ کھانے والے جانور کے جو کھاتا ہے یہاں تک کہ جب اس کی دونوں کوکھیں پھول جاتی ہیں (وہ سیر ہو جاتا ہے) تو وہ (مزید کھانا چھوڑ کر) سورج کی طرف منہ کر لیتا ہے پھر جگالی کرتا ہے پیشاب کرتا ہے گوبر کرتا ہے پھر لوٹتا ہے اور کھاتا ہے بلاشبہ یہ مال شاداب اور شیریں ہے جس نے اسے اس کے حق کے مطابق لیا اور حق (کے مصرف) ہی میں خرچ کیا تو وہ (مال) بہت ہی معاون و مددگار ہوگا اور جس نے اسے حق کے بغیر لیا وہ اس انسان کی طرح ہوگا جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2422]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے تمھارے بارے میں سب سے زیادہ خطرہ اور اندیشہ دنیا کی اس زینت اور تازگی کا ہے جو اللہ تعالیٰ تمھیں دے گا۔ صحابہ نے عرض کیا: دنیا کی رونق اور ترو تازگی سے کیا مراد ہے؟ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین کی برکات“ انھوں نے کہا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر شر کے لانے کا سبب بن جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیر، خیر ہی کے لانے کا سبب بنتا ہے۔ خیر، خیر ہی لاتا ہے۔ خیر، خیر کا ہی پیش خیمہ ہے۔ جو سبزہ اور نباتات موسم بہار اگاتا ہے وہ قتل کر دیتا ہے یا قریب الموت کر دیتا ہے مگر وہ چرنے والا جانور جو چرتا چگتا ہے جب اس کی دونوں کوکھیں پھول جاتی ہیں (وہ سیر ہو جاتا ہے (وہ سیر ہو جاتا ہے) وہ سورج کا رخ کر کے بیٹھ جاتا ہے پھر جگالی کرتا ہے اور بیٹھ کر گوبر اور پیشاب کرتا ہے پھر اٹھ کر دوبارہ کھانا شروع کر دیتا ہے یہ مال سرسبز و شاداب اور شریں ہے تو جو اسے جائز طریقہ سے لے گا اور جائز موقع و محل پر خرچ کرے گا تو وہ بہت ہی معاون و مددگار ہے اور اسے ناجائز طریقہ سے لے گا وہ اس انسان کی طرح ہے جو کھاتا ہے سیر نہیں ہوتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2422]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1052
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
عطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري