صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب اجر المفطر في السفر إذا تولى العمل:
باب: سفر میں روزہ چھوڑنے والے کے اجر کا بیان جبکہ وہ خدمت والے کام میں لگا رہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1120 ترقیم شاملہ: -- 2624
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَزَعَةُ ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ، قُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلَاءِ عَنْهُ، سَأَلْتُهُ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ وَنَحْنُ صِيَامٌ، قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ، وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ "، فَكَانَتْ رُخْصَةً فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ، ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلًا آخَرَ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ مُصَبِّحُو عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ، فَأَفْطِرُوا "، وَكَانَتْ عَزْمَةً فَأَفْطَرْنَا، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ.
محمد بن حاتم، عبدالرحمن بن مہدی، معاویہ بن صالح، حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے قزعہ نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس حال میں کہ ان کے پاس لوگوں کا جمگھٹا لگا ہوا تھا تو لوگ ان سے علیحدہ ہو گئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ میں آپ سے وہ نہیں پوچھوں گا جس کے بارے میں یہ پوچھ رہے ہیں (راوی کہتے ہیں) کہ میں نے سفر کے روزہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ تک سفر کیا ہے اور ہم روزہ کی حالت میں تھے انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک جگہ اترے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دشمن کے قریب ہو گئے ہو اور اب افطار کرنا (روزہ نہ رکھنا) تمہارے لیے قوت و طاقت کا باعث ہو گا۔“ تو روزہ کی رخصت تھی پھر ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے روزہ نہ رکھا پھر جب ہم دوسری منزل تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبح کے وقت اپنے دشمن کے پاس گئے روزہ نہ رکھنے سے تمہارے اندر طاقت زیادہ ہو گی اس لیے روزہ نہ رکھو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم ضروری تھا اس لیے ہم نے روزہ نہیں رکھا۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں روزہ رکھتے رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2624]
قزعہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ ان کے پاس بہت سے لوگ جمع ہو چکے تھے جب لوگ ان کے پاس سے بکھرگئے تو میں نے کہا جو یہ لوگ پوچھ رہے تھے میں اس کے بارے میں آپ سے نہیں پوچھوں گا، میں نے ان سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا؟ تو انھوں نے بتایا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کے سفر کے لیےنکلے جبکہ ہم روزہ دار تھے تو ہم ایک منزل پر اترے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے دشمن کے قریب پہنچ چکے ہو اور روزہ نہ رکھنا یہ تمھارے لیے زیادہ طاقت بخش ہے۔“ یہ روزہ نہ رکھنے کی رخصت تھی تو ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے نہ رکھاپھر ہم ایک دوسری منزل پر اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبح دشمن تک پہنچ جاؤگے اور روزہ نہ رکھنا یہ تمھارے لیے زیادہ طاقت کا باعث ہو گا لہٰذا روزہ نہ رکھو،“ اور یہ حکم قطعی تھا اس لیے ہم نے روزہ نہ رکھا پھر انھوں نے بتایا میں نے اس کے بعد سفر میں ساتھیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزہ رکھتے دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2624]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1120
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥قزعة بن يحيى البصري، أبو الغادية قزعة بن يحيى البصري ← أبو سعيد الخدري | ثقة | |
👤←👥ربيعة بن يزيد الإيادي، أبو شعيب ربيعة بن يزيد الإيادي ← قزعة بن يحيى البصري | ثقة | |
👤←👥معاوية بن صالح الحضرمي، أبو حمزة، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو معاوية بن صالح الحضرمي ← ربيعة بن يزيد الإيادي | صدوق له أوهام | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← معاوية بن صالح الحضرمي | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن حاتم السمين، أبو عبد الله محمد بن حاتم السمين ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | صدوق ربما وهم وكان فاضلا |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
2615
| غزونا مع رسول الله لست عشرة مضت من رمضان فمنا من صام ومنا من أفطر لم يعب الصائم على المفطر ولا المفطر على الصائم |
صحيح مسلم |
2617
| نسافر مع رسول الله في رمضان ما يعاب على الصائم صومه ولا على المفطر إفطاره |
صحيح مسلم |
2618
| نغزو مع رسول الله في رمضان فمنا الصائم ومنا المفطر لا يجد الصائم على المفطر ولا المفطر على الصائم |
صحيح مسلم |
2624
| دنوتم من عدوكم والفطر أقوى لكم فكانت رخصة فمنا من صام ومنا من أفطر ثم نزلنا منزلا آخر فقال إنكم مصبحو عدوكم والفطر أقوى لكم فأفطروا |
جامع الترمذي |
712
| نسافر مع رسول الله في رمضان ما يعيب على الصائم صومه ولا على المفطر إفطاره |
جامع الترمذي |
1684
| لما بلغ النبي عام الفتح مر الظهران فآذننا بلقاء العدو فأمرنا بالفطر فأفطرنا أجمعون |
جامع الترمذي |
713
| نسافر مع رسول الله فمنا الصائم ومنا المفطر لا يجد المفطر على الصائم ولا الصائم على المفطر يرون أنه من وجد قوة فصام فحسن ومن وجد ضعفا فأفطر فحسن |
سنن أبي داود |
2406
| إنكم قد دنوتم من عدوكم والفطر أقوى لكم فأصبحنا منا الصائم ومنا المفطر قال ثم سرنا فنزلنا منزلا فقال إنكم تصبحون عدوكم والفطر أقوى لكم فأفطروا فكانت عزيمة من رسول الله |
سنن النسائى الصغرى |
2312
| نسافر مع النبي فمنا الصائم ومنا المفطر لا يعيب الصائم على المفطر ولا يعيب المفطر على الصائم |
قزعة بن يحيى البصري ← أبو سعيد الخدري