صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
40. باب فضل ليلة القدر والحث على طلبها وبيان محلها وارجى اوقات طلبها:
باب: شب قدر کی فضیلت اور اس کو تلاش کرنے کی ترغیب، اور اس کے تعین کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 762 ترقیم شاملہ: -- 2777
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدَةَ ، وَعَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، سمعا زر بن حبيش ، يَقُولُ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَقَالَ: " رَحِمَهُ اللَّهُ أَرَادَ أَنْ لَا يَتَّكِلَ النَّاسُ أَمَا إِنَّهُ قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، ثُمَّ حَلَفَ لَا يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ "، فَقُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ؟، قَالَ: " بِالْعَلَامَةِ أَوْ بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لَا شُعَاعَ لَهَا ".
سفیان بن عیینہ نے عبدہ اور عاصم بن ابی نجود سے روایت کی، ان دونوں نے حضرت زر بن حبیش سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، میں نے کہا: آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو سال بھر (رات کو) قیام کرے گا، وہ لیلۃ القدر کو پا لے گا۔ انہوں نے فرمایا: ”اللہ ان پر رحم فرمائے، انہوں نے چاہا کہ لوگ (کم راتوں کی عبادت پر) قناعت نہ کر لیں، ورنہ وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ رمضان ہی میں ہے اور آخری عشرے میں ہے اور یہ بھی کہ وہ ستائیسویں رات ہے۔“ پھر انہوں نے استثناء (ان شاء اللہ کہے) بغیر قسم کھا کر کہا: وہ ستائیسویں رات ہی ہے۔ اس پر میں نے کہا: ابومنذر! یہ بات آپ کس بنا پر کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس علامت یا نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی ہے کہ اس دن سورج نکلتا ہے، اس کی شعائیں (نمایاں) نہیں ہوتیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2777]
زر بن حبیش رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”جو پورے سال کی راتوں میں کھڑا ہو گا (سال کی ہر رات قیام کرے گا) اس کو شب قدر نصیب ہو گی“ تو انہوں نے فرمایا: ”عبداللہ (رضی اللہ عنہ) پر اللہ تعالیٰ رحمت فرمائے، ان کا مقصد یہ تھا کہ لوگ (کسی ایک رات کے قیام) پر اعتماد و قناعت نہ کر لیں، ورنہ ان کو خوب پتہ تھا کہ شب قدر رمضان میں ہے اور اس کے بھی آخری عشرہ میں، اور وہ ستائیسویں (27) رات ہے“ پھر انہوں نے (پوری قطعیت کے ساتھ) بغیر «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» کہے قسم کھا کر کہا: ”وہ ستائیسویں رات ہی ہے“ تو میں نے دریافت کیا: ”اے ابوالمنذر! (حضرت ابی کی کنیت ہے) یہ آپ کس بنا پر کہتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”اس علامت یا نشانی کی بنا پر کہتا ہوں جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی تھی، اور وہ یہ کہ شب قدر کی صبح کو جب سورج نکلتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2777]
ترقیم فوادعبدالباقی: 762
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
2777
| تطلع يومئذ لا شعاع لها |
صحيح مسلم |
1785
| تطلع الشمس في صبيحة يومها بيضاء لا شعاع لها |
جامع الترمذي |
793
| ليلة صبيحتها تطلع الشمس ليس لها شعاع فعددنا وحفظنا والله لقد علم ابن مسعود أنها في رمضان وأنها ليلة سبع وعشرين ولكن كره أن يخبركم فتتكلوا |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2777 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2777
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات نہیں فرمائی کہ شب قدر متعین طور پر ستائیسویں شب میں ہی ہوتی ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو ایک خاص نشانی بتائی تھی۔
وہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تجربہ اور مشاہدہ کی روسے عموماً ستائیسویں شب کی صبح ہی کو پائی گئی۔
اس لیے انہوں نے پوری قطیعت اور یقین کے ساتھ یہ بات کہی کہ شب قدرمتعین طور پر ستائیسویں شب ہی ہوتی ہے۔
بعض دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اپنی رؤیت اور مشاہدہ کے اعتبار سے اکسیویں تئیسویں شب کے بارے میں یہی بات کی،
جیسا کہ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ صرف تئیسویں شب کو یہ مسجد نبوی میں قیام کے لیے آیا کرتے تھے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات نہیں فرمائی کہ شب قدر متعین طور پر ستائیسویں شب میں ہی ہوتی ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو ایک خاص نشانی بتائی تھی۔
وہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تجربہ اور مشاہدہ کی روسے عموماً ستائیسویں شب کی صبح ہی کو پائی گئی۔
اس لیے انہوں نے پوری قطیعت اور یقین کے ساتھ یہ بات کہی کہ شب قدرمتعین طور پر ستائیسویں شب ہی ہوتی ہے۔
بعض دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اپنی رؤیت اور مشاہدہ کے اعتبار سے اکسیویں تئیسویں شب کے بارے میں یہی بات کی،
جیسا کہ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ صرف تئیسویں شب کو یہ مسجد نبوی میں قیام کے لیے آیا کرتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2777]
Sahih Muslim Hadith 2777 in Urdu
زر بن حبيش الأسدي ← أبي بن كعب الأنصاري