🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب قول النبي صلى الله تعالى عليه وسلم: «من حمل علينا السلاح فليس منا»:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”جو آدمی ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 100 ترقیم شاملہ: -- 282
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ، فَلَيْسَ مِنَّا ".
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جس نے ہمارے خلاف اسلحہ اٹھایا، وہ ہم میں سے نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 282]
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 282]
ترقیم فوادعبدالباقی: 100
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الفتن، باب: قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم ((من حمل علينا السلاح فليس منا)) برقم (6660) والترمذي في ((جامعه)) في الحدود، باب: ما جاء فيمن السلاح برقم (1459) وقال: حسن صحيح - وابن ماجه في ((سننه)) في الحدود، باب: من شهر السلاح برقم (2577) انظر ((التحفة)) برقم (9042)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة
Newأبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥بريد بن عبد الله الأشعري، أبو بردة
Newبريد بن عبد الله الأشعري ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
ثقة
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← بريد بن عبد الله الأشعري
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ
👤←👥عبد الله بن براد الأشعري، أبو عامر
Newعبد الله بن براد الأشعري ← محمد بن العلاء الهمداني
صدوق حسن الحديث
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبد الله بن براد الأشعري
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7071
من حمل علينا السلاح فليس منا
صحيح مسلم
282
من حمل علينا السلاح فليس منا
جامع الترمذي
1459
حمل علينا السلاح فليس منا
سنن ابن ماجه
2577
من شهر علينا السلاح فليس منا
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 282 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 282
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
لَيْسَ مِنَّا:
سے مقصود اس کو کافر قرار دینا نہیں ہے،
بلکہ مقصود یہ ہے کہ اس کے اخلاق واعمال ہم جیسے نہیں ہیں،
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو فرمایا تھا:
﴿إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ﴾ وہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے۔
حالانکہ وہ نسبی طور پر انھی کا بیٹا تھا،
مقصود تھا:
اس نے تیرے اہل والا طریقہ اور رویہ اختیار نہیں کیا یا اس نے تیری اطاعت وپیروی نہیں کی اور تیرے راستہ پر نہیں چلا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 282]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 7071
مسلمانوں کے خلاف اسلحہ اٹھانا حرام ہے
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا . . .»
. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم سے نہیں ہے . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ: 7071]
فہم الحدیث:
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے خلاف اسلحہ اٹھانا حرام ہے اور جو ایسا کرے گا وہ بغاوت و سرکشی کا مرتکب ہو کر مسلمانوں کی جماعت سے نکل جائے گا، حاکم وقت ایسے لوگوں کو بلا کر ان کے شبہات دور کرنے کی کوشش کرے گا اور انہیں جماعت میں شرکت کی دعوت دے گا۔ اگر وہ تسلیم کر لیں تو درست ورنہ ان کے راہ راست پر آنے تک ان سے قتال کیا جائے گا۔ جیسا کہ قرآن میں ہے کہ «فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّـهِ» [الحجرات: 9] باغی گروہ سے لڑائی کرو حتیٰ کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئیں۔
[جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 64]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2577
مسلمان پر ہتھیار اٹھانے کی برائی کا بیان۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2577]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسلمانوں کوخوف زدہ کرنا بڑا گناہ ہے۔

(2)
کسی مسلمان کے خلاف لڑنا یا اس پر حملہ آور ہونا کبیرہ گناہ ہے۔

(3)
ہم میں سے نہیں ہے۔
کا مطلب وہ مسلمانوں کے طریقے پر نہیں ہے۔
واللہ اعلم
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2577]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1459
مسلمان کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے کا بیان۔
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۱؎۔ اس باب میں ابن عمر، ابن زبیر، ابوہریرہ اور سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1459]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مسلمانوں کے خلاف ناحق ہتھیار اٹھانے والا اگر اسے حلال سمجھ کر ان سے صف آرا ہے تو اس کے کافر ہونے میں کسی کو شبہ نہیں اور اگر اس کا یہ عمل کسی دنیاوی طمع و حرص کی بناء پر ہے تو اس کا شمار باغیوں میں سے ہوگا اور اس سے قتال جائز ہوگا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1459]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7071
7071. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے،وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جس نے ہم مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7071]
حدیث حاشیہ:
بلکہ کافر ہے اگر مسلمان پر ہتھیار اٹھا نا حلال جانتا ہے اگر درست نہیں جانتا تو ہمارے طریق سنت پر نہیں ہے اس لیے کیونکہ ایک امر حرام کا ارتکاب کرنا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7071]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7071
7071. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے،وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جس نے ہم مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7071]
حدیث حاشیہ:

اگر ہتھیاراٹھانے والا مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کو حلال سمجھتا ہے تو ایسی حالت میں وہ مسلمان نہیں بلکہ دین اسلام سے خارج ہے لیکن جو اسے حلال خیال نہیں کرتا تو ایسا انسان ہمارے طریقے پر نہیں اور نہ وہ ہمارا پیروکار ہی ہے کیونکہ مسلمان کا مسلمان پر حق یہ ہے کہ وہ اس کی مدد کرے اور اس کی جان بچانے کے لیے ہتھیار اٹھائے۔
لیکن جو اہل اسلام کو ڈرانے کے لیے ہتھیاراٹھاتا ہے وہ ہمارے راستے پر چلنے والا نہیں ہے کیونکہ اس نے ایک حرام کام کا ارتکاب کیا ہے۔

اکثر اسلاف اسے ظاہری معنی پر محمول کرتے ہیں اور اس کی کوئی تاویل نہیں کرتے تاکہ وعید اور زجر کے متعلق زیادہ مؤثر ہو۔
(فتح الباري: 31/13)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7071]

Sahih Muslim Hadith 282 in Urdu