🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب قول النبي صلى الله تعالى عليه وسلم: «من غشنا فليس منا»:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 102 ترقیم شاملہ: -- 284
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ: " مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟ "، قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ كَيْ يَرَاهُ النَّاسُ، مَنْ غَشَّ، فَلَيْسَ مِنِّي ".
علاء نے اپنے والد عبدالرحمن بن یعقوب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلے کی ایک ڈھیری کے پاس سے گزرے تو آپ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا، آپ کی انگلیوں نے نمی محسوس کی تو آپ نے فرمایا: غلے کے مالک! یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس پر بارش پڑ گئی تھی۔ آپ نے فرمایا: تو تم نے اسے (بھیگے ہوئے غلے) کو اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟ جس نے دھوکا کیا، وہ مجھ سے نہیں۔ (ان لوگوں میں سے نہیں جنہیں میرے ساتھ وابستہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 284]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلّہ کے ایک ڈھیر سے گزرے تو اس میں اپنا ہاتھ داخل فرمایا، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کو تری محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے غلّہ کے مالک! یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! رات اس پر بارش برسی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس بھیگے ہوئے غلّہ کو اوپر کیوں نہ کیا کہ لوگ دیکھ لیتے؟ جس نے دھوکا کیا وہ مجھ سے نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 284]
ترقیم فوادعبدالباقی: 102
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في البيوع، باب: في كراهية الفتن في البيوع، وقال: حدیث حسن صحيح برقم (1315) انظر ((التحفة)) برقم (13979)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن يعقوب الجهني، أبو العلاء
Newعبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥العلاء بن عبد الرحمن الحرقي، أبو شبل
Newالعلاء بن عبد الرحمن الحرقي ← عبد الرحمن بن يعقوب الجهني
صدوق حسن الحديث
👤←👥إسماعيل بن جعفر الأنصاري، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن جعفر الأنصاري ← العلاء بن عبد الرحمن الحرقي
ثقة
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن
Newعلي بن حجر السعدي ← إسماعيل بن جعفر الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← علي بن حجر السعدي
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن أيوب المقابري، أبو زكريا
Newيحيى بن أيوب المقابري ← قتيبة بن سعيد الثقفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
284
من غش فليس مني
صحيح مسلم
283
من حمل علينا السلاح فليس منا ومن غشنا فليس منا
جامع الترمذي
1315
من غش فليس منا
سنن أبي داود
3452
ليس منا من غش
سنن ابن ماجه
2224
ليس منا من غش
المعجم الصغير للطبراني
538
من غشنا فليس منا ، والمكر والخديعة فى النار
مسندالحميدي
1063
ليس منا من غشنا
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 284 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 284
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں دھوکے کی ایک صورت بیان کی گئی ہے جسکے تحت بہت ساری جزئیات آجاتی ہیں،
کہ اوپر چیز اچھی ہے جو نظر آرہی ہے،
اور نیچے والی چیز جو نظر نہیں آرہی،
وہ ناقص یا نکمی ہے،
اس طرح ملاوٹ وآمیزش،
جعل سازی،
ملمع سازی،
خرید وفروخت کی وہ تمام شکلیں جن میں دھوکا اور فراڈ پایا جاتا ہے،
اس حدیث کے تحت آتی ہیں۔
اور بدقسمتی سے مسلمان بلا خوف وخطر دھڑلے سے ان کا ارتکاب کر رہے ہیں،
اور ہر طرف دھوکا وفریب کا بازار گرم ہے،
لیکن مسلمانوں کو احساس نہیں کہ یہ کتنا بڑا جرم ہے کہ کوئی صحیح اور کامل مومن سے اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 284]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2224
دھوکا دینا منع ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو گیہوں (غلہ) بیچ رہا تھا، آپ نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈالا تو وہ «مغشوش» (غیر خالص اور دھوکے والا گڑبڑ) تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو دھوکہ فریب دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2224]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عالم اور حکمران کو عوام کے حالات سے براہ راست آگاہی حاسل کرنا اور ان کی غلطیوں پر بروقت تنبیہ کرنا ضروری ہے۔

(2)
غلے میں دھوکا یہ تھا کہ بارش میں کچھ غلہ بھیگ گیا تھا۔
غلے کے مالک نے خشک غلہ اوپر کر دیا، اس طرح گیلا نیچے چھپ گیا۔ دیکھیے: (صحيح مسلم، الإيمان، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم من غشنا فليس منا، حديث: 101)

(2)
  دھوکے کی کئی صورتیں ہیں، وہ سب حرام ہیں، مثلاً:
جھوٹ کو چرب زبانی سے سچ ثابت کرنے کی کوشش کرنا، باطل کو حق کے رنگ میں پیش کرنا، سودے کا عیب ظاہر نہ کرنا اور اچھے مال میں ادنیٰ اور نکما مال ملا کر عمدہ مال کی قیمت وصول کرنا۔
وغیرہ
(4)
ہم میں سے نہیں۔
کا مطلب ہے کہ وہ مومنوں کے طریقے پر نہیں۔
ایک روایت میں یہ لفظ ہیں (فَلَیْسَ مِنِّیْ)
 وہ مجھ سے نہیں اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ وہ میرے طریقے پر نہیں، میرے امتی کو یہ حرکت زیب نہیں دیتی، اس لیے ہر مسلمان کو ہر قسم کی دھوکا دہی سے اجتناب کرنا چاہیے۔

(5)
  امتحان میں ناجائز ذرائع، نقل وغیرہ اختیار کرنا، یا ممتحن کا طالب علم کو اس کے استحقاق سے زیادہ نمبردے دینا بھی دھوکے میں شامل ہے۔
اس سے مستحق افراد کی حق تلفی ہوتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2224]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1315
بیع میں دھوکہ دینے کی حرمت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلہ کے ڈھیر سے گزرے، تو آپ نے اس کے اندر اپنا ہاتھ داخل کر دیا، آپ کی انگلیاں تر ہو گئیں تو آپ نے فرمایا: غلہ والے! یہ کیا معاملہ ہے؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بارش سے بھیگ گیا ہے، آپ نے فرمایا: اسے اوپر کیوں نہیں کر دیا تاکہ لوگ دیکھ سکیں، پھر آپ نے فرمایا: جو دھوکہ دے ۱؎، ہم میں سے نہیں ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1315]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
بیع میں دھوکہ دہی کی مختلف صورتیں ہیں،
مثلاً سودے میں کوئی عیب ہو اسے ظاہر نہ کرنا،
اچھے مال میں ردّی اورگھٹیا مال کی ملاوٹ کردینا،
سودے میں کسی اورچیزکی ملاوٹ کردینا تاکہ اس کا وزن زیادہ ہوجائے وغیرہ وغیرہ۔

2؎:
ہم میں سے نہیں کا مطلب ہے مسلمانوں کے طریقے پر نہیں،
اس کا یہ فعل مسلمان کے فعل کے منافی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1315]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1063
1063- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے، جو اناج فروخت کررہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اناج اچھا لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک اس میں داخل کیا، تواس میں گیلا اناج بھی شامل تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ملاوٹ کرے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1063]
فائدہ:
اس حدیث میں یہ واضح بیان ہے کہ اہل علم کو منڈیوں اور کھیتوں میں بھی جانا چاہیے، اور جہاں شک گزرے وہاں تحقیق کی غرض سے مال کی پرکھ کرنی چاہیے، اگر کسی نے دونمبر مال رکھا ہو اور دھوکا دے رہا ہو تو اس کی مذمت کرنی چاہیے، اور لوگوں کو شریعت سے باخبر کرنا چاہیے۔
آج کل ہر آدمی دھوکا دے رہا ہے، الا من رحم ربی، زمیندار بھی بے شمار جگہوں پر دھوکا دیتے ہیں، جب مال منڈی میں لاتے ہیں تو دو نمبر مال اندر رکھ دیتے ہیں اور ایک نمبر چیز اوپر رکھتے ہیں۔ بلکہ بعض دنیا دار تاجر ہلدی میں مکئی کو پیس دیتے ہیں، اور دودھ میں ملاوٹ تو بہت ہی عام ہے، بس اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو ہدایت عطا فرمائے آمین۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1062]