سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب : النهي عن الغش
باب: دھوکا دینا منع ہے۔
حدیث نمبر: 2224
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَإِذَا هُوَ مَغْشُوشٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو گیہوں (غلہ) بیچ رہا تھا، آپ نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈالا تو وہ «مغشوش» (غیر خالص اور دھوکے والا گڑبڑ) تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو دھوکہ فریب دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2224]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 52 (3452)، (تحفة الأشراف: 14022)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان 43 (102)، سنن الترمذی/البیوع 74 (1315)، مسند احمد (2/242) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «مغشوش» : یعنی غیر خالص اور دھوکے والا یعنی گیہوں اندر سے گیلا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن يعقوب الجهني، أبو العلاء عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥العلاء بن عبد الرحمن الحرقي، أبو شبل العلاء بن عبد الرحمن الحرقي ← عبد الرحمن بن يعقوب الجهني | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← العلاء بن عبد الرحمن الحرقي | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد هشام بن عمار السلمي ← سفيان بن عيينة الهلالي | صدوق جهمي كبر فصار يتلقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
284
| من غش فليس مني |
صحيح مسلم |
283
| من حمل علينا السلاح فليس منا ومن غشنا فليس منا |
جامع الترمذي |
1315
| من غش فليس منا |
سنن أبي داود |
3452
| ليس منا من غش |
سنن ابن ماجه |
2224
| ليس منا من غش |
المعجم الصغير للطبراني |
538
| من غشنا فليس منا ، والمكر والخديعة فى النار |
مسندالحميدي |
1063
| ليس منا من غشنا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2224 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2224
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عالم اور حکمران کو عوام کے حالات سے براہ راست آگاہی حاسل کرنا اور ان کی غلطیوں پر بروقت تنبیہ کرنا ضروری ہے۔
(2)
غلے میں دھوکا یہ تھا کہ بارش میں کچھ غلہ بھیگ گیا تھا۔
غلے کے مالک نے خشک غلہ اوپر کر دیا، اس طرح گیلا نیچے چھپ گیا۔ دیکھیے: (صحيح مسلم، الإيمان، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم من غشنا فليس منا، حديث: 101)
(2)
دھوکے کی کئی صورتیں ہیں، وہ سب حرام ہیں، مثلاً:
جھوٹ کو چرب زبانی سے سچ ثابت کرنے کی کوشش کرنا، باطل کو حق کے رنگ میں پیش کرنا، سودے کا عیب ظاہر نہ کرنا اور اچھے مال میں ادنیٰ اور نکما مال ملا کر عمدہ مال کی قیمت وصول کرنا۔
وغیرہ
(4)
”ہم میں سے نہیں۔“
کا مطلب ہے کہ وہ مومنوں کے طریقے پر نہیں۔
ایک روایت میں یہ لفظ ہیں (فَلَیْسَ مِنِّیْ)
”وہ مجھ سے نہیں“ اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ وہ میرے طریقے پر نہیں، میرے امتی کو یہ حرکت زیب نہیں دیتی، اس لیے ہر مسلمان کو ہر قسم کی دھوکا دہی سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(5)
امتحان میں ناجائز ذرائع، نقل وغیرہ اختیار کرنا، یا ممتحن کا طالب علم کو اس کے استحقاق سے زیادہ نمبردے دینا بھی دھوکے میں شامل ہے۔
اس سے مستحق افراد کی حق تلفی ہوتی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
عالم اور حکمران کو عوام کے حالات سے براہ راست آگاہی حاسل کرنا اور ان کی غلطیوں پر بروقت تنبیہ کرنا ضروری ہے۔
(2)
غلے میں دھوکا یہ تھا کہ بارش میں کچھ غلہ بھیگ گیا تھا۔
غلے کے مالک نے خشک غلہ اوپر کر دیا، اس طرح گیلا نیچے چھپ گیا۔ دیکھیے: (صحيح مسلم، الإيمان، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم من غشنا فليس منا، حديث: 101)
(2)
دھوکے کی کئی صورتیں ہیں، وہ سب حرام ہیں، مثلاً:
جھوٹ کو چرب زبانی سے سچ ثابت کرنے کی کوشش کرنا، باطل کو حق کے رنگ میں پیش کرنا، سودے کا عیب ظاہر نہ کرنا اور اچھے مال میں ادنیٰ اور نکما مال ملا کر عمدہ مال کی قیمت وصول کرنا۔
وغیرہ
(4)
”ہم میں سے نہیں۔“
کا مطلب ہے کہ وہ مومنوں کے طریقے پر نہیں۔
ایک روایت میں یہ لفظ ہیں (فَلَیْسَ مِنِّیْ)
”وہ مجھ سے نہیں“ اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ وہ میرے طریقے پر نہیں، میرے امتی کو یہ حرکت زیب نہیں دیتی، اس لیے ہر مسلمان کو ہر قسم کی دھوکا دہی سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(5)
امتحان میں ناجائز ذرائع، نقل وغیرہ اختیار کرنا، یا ممتحن کا طالب علم کو اس کے استحقاق سے زیادہ نمبردے دینا بھی دھوکے میں شامل ہے۔
اس سے مستحق افراد کی حق تلفی ہوتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2224]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1315
بیع میں دھوکہ دینے کی حرمت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلہ کے ڈھیر سے گزرے، تو آپ نے اس کے اندر اپنا ہاتھ داخل کر دیا، آپ کی انگلیاں تر ہو گئیں تو آپ نے فرمایا: ”غلہ والے! یہ کیا معاملہ ہے؟“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بارش سے بھیگ گیا ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے اوپر کیوں نہیں کر دیا تاکہ لوگ دیکھ سکیں“، پھر آپ نے فرمایا: ”جو دھوکہ دے ۱؎، ہم میں سے نہیں ہے“ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1315]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلہ کے ڈھیر سے گزرے، تو آپ نے اس کے اندر اپنا ہاتھ داخل کر دیا، آپ کی انگلیاں تر ہو گئیں تو آپ نے فرمایا: ”غلہ والے! یہ کیا معاملہ ہے؟“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بارش سے بھیگ گیا ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے اوپر کیوں نہیں کر دیا تاکہ لوگ دیکھ سکیں“، پھر آپ نے فرمایا: ”جو دھوکہ دے ۱؎، ہم میں سے نہیں ہے“ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1315]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
بیع میں دھوکہ دہی کی مختلف صورتیں ہیں،
مثلاً سودے میں کوئی عیب ہو اسے ظاہر نہ کرنا،
اچھے مال میں ردّی اورگھٹیا مال کی ملاوٹ کردینا،
سودے میں کسی اورچیزکی ملاوٹ کردینا تاکہ اس کا وزن زیادہ ہوجائے وغیرہ وغیرہ۔
2؎:
”ہم میں سے نہیں“ کا مطلب ہے مسلمانوں کے طریقے پر نہیں،
اس کا یہ فعل مسلمان کے فعل کے منافی ہے۔
وضاحت:
1؎:
بیع میں دھوکہ دہی کی مختلف صورتیں ہیں،
مثلاً سودے میں کوئی عیب ہو اسے ظاہر نہ کرنا،
اچھے مال میں ردّی اورگھٹیا مال کی ملاوٹ کردینا،
سودے میں کسی اورچیزکی ملاوٹ کردینا تاکہ اس کا وزن زیادہ ہوجائے وغیرہ وغیرہ۔
2؎:
”ہم میں سے نہیں“ کا مطلب ہے مسلمانوں کے طریقے پر نہیں،
اس کا یہ فعل مسلمان کے فعل کے منافی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1315]
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1063
1063- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے، جو اناج فروخت کررہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اناج اچھا لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک اس میں داخل کیا، تواس میں گیلا اناج بھی شامل تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ملاوٹ کرے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1063]
فائدہ:
اس حدیث میں یہ واضح بیان ہے کہ اہل علم کو منڈیوں اور کھیتوں میں بھی جانا چاہیے، اور جہاں شک گزرے وہاں تحقیق کی غرض سے مال کی پرکھ کرنی چاہیے، اگر کسی نے دونمبر مال رکھا ہو اور دھوکا دے رہا ہو تو اس کی مذمت کرنی چاہیے، اور لوگوں کو شریعت سے باخبر کرنا چاہیے۔
آج کل ہر آدمی دھوکا دے رہا ہے، الا من رحم ربی، زمیندار بھی بے شمار جگہوں پر دھوکا دیتے ہیں، جب مال منڈی میں لاتے ہیں تو دو نمبر مال اندر رکھ دیتے ہیں اور ایک نمبر چیز اوپر رکھتے ہیں۔ بلکہ بعض دنیا دار تاجر ہلدی میں مکئی کو پیس دیتے ہیں، اور دودھ میں ملاوٹ تو بہت ہی عام ہے، بس اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو ہدایت عطا فرمائے آمین۔
اس حدیث میں یہ واضح بیان ہے کہ اہل علم کو منڈیوں اور کھیتوں میں بھی جانا چاہیے، اور جہاں شک گزرے وہاں تحقیق کی غرض سے مال کی پرکھ کرنی چاہیے، اگر کسی نے دونمبر مال رکھا ہو اور دھوکا دے رہا ہو تو اس کی مذمت کرنی چاہیے، اور لوگوں کو شریعت سے باخبر کرنا چاہیے۔
آج کل ہر آدمی دھوکا دے رہا ہے، الا من رحم ربی، زمیندار بھی بے شمار جگہوں پر دھوکا دیتے ہیں، جب مال منڈی میں لاتے ہیں تو دو نمبر مال اندر رکھ دیتے ہیں اور ایک نمبر چیز اوپر رکھتے ہیں۔ بلکہ بعض دنیا دار تاجر ہلدی میں مکئی کو پیس دیتے ہیں، اور دودھ میں ملاوٹ تو بہت ہی عام ہے، بس اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو ہدایت عطا فرمائے آمین۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1062]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 284
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلّہ کے ایک ڈھیر سے گزرے تو اس میں اپنا ہاتھ داخل فرمایا، اس سے آپؐ کی انگلیوں کو تری محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے غلّہ کے مالک! یہ کیا ہے؟“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! رات اس پر بارش برسی تھی تو آپؐ نے فرمایا: ”تو نے اس بھیگے ہوئے غلّہ کواوپر کیوں نہ کیا کہ لوگ دیکھ لیتے؟ جس نے دھوکا کیا وہ مجھ سے نہیں۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:284]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں دھوکے کی ایک صورت بیان کی گئی ہے جسکے تحت بہت ساری جزئیات آجاتی ہیں،
کہ اوپر چیز اچھی ہے جو نظر آرہی ہے،
اور نیچے والی چیز جو نظر نہیں آرہی،
وہ ناقص یا نکمی ہے،
اس طرح ملاوٹ وآمیزش،
جعل سازی،
ملمع سازی،
خرید وفروخت کی وہ تمام شکلیں جن میں دھوکا اور فراڈ پایا جاتا ہے،
اس حدیث کے تحت آتی ہیں۔
اور بدقسمتی سے مسلمان بلا خوف وخطر دھڑلے سے ان کا ارتکاب کر رہے ہیں،
اور ہر طرف دھوکا وفریب کا بازار گرم ہے،
لیکن مسلمانوں کو احساس نہیں کہ یہ کتنا بڑا جرم ہے کہ کوئی صحیح اور کامل مومن سے اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں دھوکے کی ایک صورت بیان کی گئی ہے جسکے تحت بہت ساری جزئیات آجاتی ہیں،
کہ اوپر چیز اچھی ہے جو نظر آرہی ہے،
اور نیچے والی چیز جو نظر نہیں آرہی،
وہ ناقص یا نکمی ہے،
اس طرح ملاوٹ وآمیزش،
جعل سازی،
ملمع سازی،
خرید وفروخت کی وہ تمام شکلیں جن میں دھوکا اور فراڈ پایا جاتا ہے،
اس حدیث کے تحت آتی ہیں۔
اور بدقسمتی سے مسلمان بلا خوف وخطر دھڑلے سے ان کا ارتکاب کر رہے ہیں،
اور ہر طرف دھوکا وفریب کا بازار گرم ہے،
لیکن مسلمانوں کو احساس نہیں کہ یہ کتنا بڑا جرم ہے کہ کوئی صحیح اور کامل مومن سے اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 284]
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي