🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب جواز تعليق الإحرام وهو ان يحرم بإحرام كإحرام فلان فيصير محرما بإحرام مثل إحرام فلان
باب: اپنے احرام کو دوسرے محرم کے احرام کے ساتھ معلق کر نے کا جواز۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1221 ترقیم شاملہ: -- 2957
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ لِي: " أَحَجَجْتَ؟ "، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: " بِمَ أَهْلَلْتَ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَقَدْ أَحْسَنْتَ، طُفْ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَحِلَّ "، قَالَ: فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ، قَالَ: فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ حَتَّى كَانَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ رُوَيْدَكَ بَعْضَ فُتْيَاكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فُتْيَا فَلْيَتَّئِدْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ فَائْتَمُّوا، قَالَ: فَقَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ يَأْمُرُ بِالتَّمَامِ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ،
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی کنکریلی زمین میں اونٹ بٹھائے ہوئے تھے (یعنی وہاں منزل کی ہوئی تھی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جس نیت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم قربانی ساتھ لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر کے احرام کھول ڈالو۔ پس میں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی، پھر میں اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا (یہ ان کی محرم تھی) تو اس نے میرے سر میں کنگھی کی اور میرا سر دھو دیا۔ پھر میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت میں لوگوں کو یہی فتویٰ دینے لگا۔ (یعنی جو بغیر قربانی کے حج پر آئے تو وہ عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دے، پھر یوم الترویہ 8۔ ذوالحجہ کو دوبارہ حج کا احرام باندھے لیکن) ایک مرتبہ میں حج کے مقام پر کھڑا تھا کہ اچانک ایک شخص آیا، اس نے کہا کہ (تو تو احرام کھولنے کا فتویٰ دیتا ہے) آپ جانتے ہیں کہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قربانی کے متعلق نیا کام شروع کر دیا۔ (یعنی عمر رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ عمرہ کر کے احرام کو کھولنا نہیں چاہیے) تو میں نے کہا اے لوگو! ہم نے جس کو اس مسئلے کا فتویٰ دیا ہے اس کو رک جانا چاہیے۔ کیونکہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آنے والے ہیں لہٰذا ان کی پیروی کرو۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے کہا، امیرالمؤمنین آپ نے قربانی کے متعلق یہ کیا نیا مسئلہ بتایا ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ اللہ کی کتاب قرآن پر عمل کریں تو قرآن کہتا ہے: ((وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَ‌ۃَ لِلَّـہِ ۚ)) یعنی حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو۔ (یعنی احرام نہ کھولو) اور اگر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کریں تو ان کا اپنا طریقہ یہ تھا کہ انہوں نے احرام اس وقت تک نہ کھولا جب تک قربانی نہ کر لی۔ (آپ عمرہ اور حج کے درمیان حلال نہیں ہوئے۔) [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2957]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت پہنچا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء میں پڑاؤ کیے ہوئے تھے، آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا: کیا حج کا احرام باندھا ہے؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے کیسے تلبیہ کہا ہے؟ میں نے کہا، حاضر ہوں (لبیک) اس اہلال (احرام) کی نیت سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا احرام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اچھا کیا ہے، بیت اللہ اور صفا اور مروہ کا طواف کرو اور احرام ختم کر کے حلال ہو جاؤ۔ میں نے بیت اللہ، اور صفا و مروہ کا طواف کیا، پھر (اپنے قبیلہ) بنو قیس کی ایک عورت کے پاس آیا، اس نے میرے سر کی جوئیں نکالیں، پھر میں نے حج کا احرام باندھا، اور میں لوگوں کو اس کا فتویٰ دیا کرتا تھا، حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کا دور آ گیا، تو مجھے ایک آدمی نے کہا، اے ابو موسیٰ! یا اے عبداللہ بن قیس! اپنے بعض فتوؤں سے رک جاؤ، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں ہے، تیرے بعد امیر المؤمنین نے حج کے بارے میں کیا نیا فرمان جاری کیا ہے، تو حضرت ابو موسیٰ نے کہا، اے لوگو! جسے ہم نے فتویٰ دیا ہے، وہ ذرا توقف کرے، کیونکہ امیر المؤمنین آ رہے ہیں، انہیں کی اقتدا کرنا (پیروی کرنا)، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے، تو میں نے ان سے اس واقعہ کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا، اگر ہم کتاب اللہ پر عمل پیرا ہوں، تو وہ ہمیں (حج اور عمرہ الگ الگ) پورا کرنے کا حکم دیتی ہے، اور اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک حلال نہیں ہوئے، جب تک ہدی اپنے محل پر نہیں پہنچ گئی، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نحر سے پہلے حلال نہیں ہوئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2957]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1221
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥طارق بن شهاب البجلي، أبو عبد الله
Newطارق بن شهاب البجلي ← عبد الله بن قيس الأشعري
له رؤية
👤←👥قيس بن مسلم الجدلي، أبو عمرو
Newقيس بن مسلم الجدلي ← طارق بن شهاب البجلي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← قيس بن مسلم الجدلي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← محمد بن بشار العبدي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4397
طف بالبيت وبالصفا والمروة ثم حل
صحيح البخاري
1795
طف بالبيت وبالصفا و المروة ثم أحل
صحيح مسلم
2957
طف بالبيت وبالصفا والمروة وأحل
Sahih Muslim Hadith 2957 in Urdu