🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب تقليد الهدي وإشعاره عند الإحرام:
باب: احرام کے وقت قربانی کے اونٹ میں اشعار کرنے اور اسے قلاوہ ڈالنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1244 ترقیم شاملہ: -- 3018
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا هَذَا الْفُتْيَا الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ أَوْ تَشَغَّبَتْ بِالنَّاسِ، أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ؟، فَقَالَ: " سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ رَغِمْتُمْ ".
شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے ابوحسان اعرج سے سنا، انہوں نے کہا بنو حجیم کے ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا یہ کیا فتویٰ ہے۔ جس نے لوگوں کو الجھا رکھا ہے یا پریشان کر رکھا ہے؟ کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کرے (عمرہ کر لے) وہ احرام سے باہر آ جاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: یہی تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چاہے تمہاری مرضی نہ ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3018]
بنو ہجیم کے ایک آدمی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: یہ فتویٰ جو لوگوں کے دلوں میں جم گیا ہے، یا جس نے لوگوں کو پریشان کر دیا ہے، کیا ہے، کہ جس نے بیت اللہ کا طواف کر لیا، وہ حلال ہو جائے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ تمہاری ناگواری کے باوجود، تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (طریقہ) ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3018]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1244
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥مسلم بن عبد الله البصري، أبو حسان
Newمسلم بن عبد الله البصري ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← مسلم بن عبد الله البصري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← محمد بن بشار العبدي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4396
أمر النبي أن يحلوا في حجة الوداع
صحيح مسلم
3019
من طاف بالبيت فقد حل الطواف عمرة فقال سنة نبيكم وإن رغمتم
صحيح مسلم
3018
من طاف بالبيت فقد حل فقال سنة نبيكم وإن رغمتم
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3018 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3018
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
تَشَغَّفَتْ:
دلوں میں جاگزیں ہو گیا ہے۔
(2)
تَشَغَّبَتْ:
پریشان کر دیا ہے۔
(3)
تَشَعَّبَتْ:
انتشاروافتراق پیدا کردیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3018]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3019
ابو حسان کہتے ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا، اس مسئلہ کا لوگوں میں چرچا ہو گیا ہے، جس نے بیت اللہ کا طواف کر لیا، وہ حلال ہو جائے، طواف عمرہ ٹھہرتا ہے، انہوں نے جواب دیا، تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، خواہ تمہیں ناگوار گزرے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3019]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
تَفَشَّعَ:
پھیل گیا،
عام ہو گیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3019]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4396
4396. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب انسان بیت اللہ کا طواف کرے تو احرام کھول دے۔ ابن جریج نے کہا: میں نے (حضرت عطاء سے) پوچھا: ابن عباس ؓ نے یہ موقف کہاں سے اخذ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالٰی کے اس قول سے: پھر ان کا حلال ہونا بیت عتیق کے پاس ہے۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے بھی اخذ کیا ہے جو آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ کرام سے فرمایا: وہ اب حلال ہو جائیں۔ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان تو وقوف عرفات کے بعد تھا۔ حضرت عطاء نے کہا: حضرت ابن عباس ؓ کا موقف ہے کہ وقوف عرفات سے پہلے اور اس کے بعد احرام کھول سکتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4396]
حدیث حاشیہ:
آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ پھر ان کا حلال ہونا پرانے گھر یعنی خانہ کعبہ کے پاس ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4396]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4396
4396. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب انسان بیت اللہ کا طواف کرے تو احرام کھول دے۔ ابن جریج نے کہا: میں نے (حضرت عطاء سے) پوچھا: ابن عباس ؓ نے یہ موقف کہاں سے اخذ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالٰی کے اس قول سے: پھر ان کا حلال ہونا بیت عتیق کے پاس ہے۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے بھی اخذ کیا ہے جو آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ کرام سے فرمایا: وہ اب حلال ہو جائیں۔ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان تو وقوف عرفات کے بعد تھا۔ حضرت عطاء نے کہا: حضرت ابن عباس ؓ کا موقف ہے کہ وقوف عرفات سے پہلے اور اس کے بعد احرام کھول سکتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4396]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں بھی حجۃ الوداع کا ذکر ہے۔
اس لیے امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو یہاں پیش فرمایا۔

حضرت ابن عباس ؓ کاموقف ہے کہ صرف بیت اللہ کاطواف کرلینے سے انسان حلال ہوجاتاہے، اس کے لیے صفاومروہ کی سعی اور حلق یا تقصیر ضروری نہیں جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا:
محض طواف کرنے سے انسان حلال ہوجاتاہے، خواہ حج کاارادہ ہو یا عمرے کا۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3020(1245)
بلکہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا:
یہ کیا فتویٰ ہے جو آپ نے لوگوں میں جاری کررکھا ہے کہ جو آدمی طواف کرے اس پر احرام کی پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ ایسا کرنا تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، خواہ تمھیں بُرا محسوس ہو۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3018۔
(1244)
بہرحال ابن عباس ؓ کایہ موقف جمہور اہل علم کے خلاف ہے۔
چند لوگوں نے اس کا اتباع کیا ہے، مثلاً امام اسحاق بن راہویہ اس کے قائل ہیں۔
اس کی مکمل تفصیل کتاب الحج میں گزر چکی ہے۔
واللہ المستعان۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4396]

Sahih Muslim Hadith 3018 in Urdu