صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
35. باب بيان عدد عمر النبي صلى الله عليه وسلم وزمانهن:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمروں کی تعداد کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1255 ترقیم شاملہ: -- 3037
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ الضُّحَى فِي الْمَسْجِدِ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلَاتِهِمْ، فَقَالَ: بِدْعَةٌ، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، فَكَرِهْنَا أَنْ نُكَذِّبَهُ وَنَرُدَّ عَلَيْهِ، وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ فِي الْحُجْرَةِ، فَقَالَ عُرْوَةُ: أَلَا تَسْمَعِينَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَتْ: وَمَا يَقُولُ؟، قَالَ: يَقُولُ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا وَهُوَ مَعَهُ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ ".
مجاہد سے روایت ہے کہا: میں اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے دیکھا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسجد میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے (کی دیوار) سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور لوگ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھنے میں مصروف تھے۔ ہم نے ان سے لوگوں کی (اس) نماز کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ بدعت ہے۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کل) کتنے عمرے کیے؟ انہوں نے جواب دیا: چار عمرے اور ان میں سے ایک رجب کے مہینے میں کیا۔ (ان کی یہ بات سن کر) ہم نے انہیں جھٹلانا اور نہ رد کرنا مناسب نہ سمجھا، (اسی دوران میں) ہم نے حجرے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی۔ عروہ نے کہا: ام المؤمنین! ابوعبدالرحمٰن کو کہہ رہے ہیں آپ نہیں سن رہیں؟ انہوں نے کہا وہ کیا کہتے ہیں؟ (عروہ نے) کہا: وہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے اور ان میں سے ایک عمرہ رجب میں کیا ہے انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے بھی عمرے کیے یہ (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) ان کے ساتھ تھے (یہ بھول گئے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3037]
مجاہد بیان کرتے ہیں، میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہوئے، دیکھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس تشریف فرما ہیں، اور لوگ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھ رہے ہیں، تو ہم نے ان (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے ان کی نماز کے بارے میں پوچھا؟ انہوں نے جواب دیا، بدعت ہے، عروہ نے ان سے پوچھا، اے ابوعبدالرحمن! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے تھے؟ انہوں نے جواب دیا، چار، ان میں سے ایک رجب میں کیا تھا، تو ہم نے ان کی تغلیط اور تردید کو مناسب نہ سمجھا، اور ہم نے حجرے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کی آواز سنی، تو عروہ نے پوچھا، اے ام المؤمنین! کیا آپ سن نہیں رہی ہیں کہ ابوعبدالرحمن کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے پوچھا، کیا کہہ رہے ہیں؟ عروہ نے کہا، وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے، ان میں ایک رجب میں تھا، انہوں نے جواب دیا، اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے! وہ ہر عمرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3037]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1255
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3037
| ما اعتمر رسول الله إلا وهو معه وما اعتمر في رجب قط |
صحيح مسلم |
3036
| ما اعتمر في رجب ما اعتمر من عمرة إلا وإنه لمعه |
سنن ابن ماجه |
2998
| ما اعتمر رسول الله في رجب قط ما اعتمر إلا وهو معه |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3037 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3037
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
لوگ اجتماعی طور پر مسجد میں چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے اس مخصوص صورت کو کہ لوگ مسجد میں جمع ہو کر نمازچاشت ادا کریں،
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بدعت قرار دیا،
جس سے معلوم ہوا صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کسی عبادت کے لیے اپنی طرف سے مخصوص شکل بنا لینے کو بھی بدعت قرار دیتے تھے گویا کہ یہ بدعت اصلی اور ذاتی نہیں تھی۔
بلکہ بدعت وصفی تھی جو اپنے اصل اورذات کے اعتبار سے تو ثابت ہوتی ہے لیکن مخصوص ہئیت اور کیفیت اپنی طرف سے وضع کرلی جاتی ہے وگرنہ چاشت کی نماز تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھنا ثابت ہے،
جیسا کہ چاشت کی نماز کی بحث میں گزر چکا ہے۔
فوائد ومسائل:
لوگ اجتماعی طور پر مسجد میں چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے اس مخصوص صورت کو کہ لوگ مسجد میں جمع ہو کر نمازچاشت ادا کریں،
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بدعت قرار دیا،
جس سے معلوم ہوا صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کسی عبادت کے لیے اپنی طرف سے مخصوص شکل بنا لینے کو بھی بدعت قرار دیتے تھے گویا کہ یہ بدعت اصلی اور ذاتی نہیں تھی۔
بلکہ بدعت وصفی تھی جو اپنے اصل اورذات کے اعتبار سے تو ثابت ہوتی ہے لیکن مخصوص ہئیت اور کیفیت اپنی طرف سے وضع کرلی جاتی ہے وگرنہ چاشت کی نماز تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھنا ثابت ہے،
جیسا کہ چاشت کی نماز کی بحث میں گزر چکا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3037]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2998
ماہ رجب میں عمرہ کرنے کا بیان۔
عروہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس مہینہ میں عمرہ کیا؟ تو انہوں نے کہا: رجب میں، اس پر ام المؤمنین عائشہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی رجب میں عمرہ نہیں کیا، اور آپ کا کوئی عمرہ ایسا نہیں جس میں وہ یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما آپ کے ساتھ نہ رہے ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2998]
عروہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس مہینہ میں عمرہ کیا؟ تو انہوں نے کہا: رجب میں، اس پر ام المؤمنین عائشہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی رجب میں عمرہ نہیں کیا، اور آپ کا کوئی عمرہ ایسا نہیں جس میں وہ یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما آپ کے ساتھ نہ رہے ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2998]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اس معاملے میں بھول ہو گئی اس لیے انھوں نے یہ بات یقین کے انداز سے بیان نہیں فرمائی۔
مذکورہ بالا سوال خود حضرت عروہ ؒ ؓنے کیا تھا جب کہ حضرت عروہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے حجرے کے قریب تشریف فرما تھے اور ام المومنین نے ان کا سوال اور جواب سنا۔
اس پر عروہ ؓ نے ام المومنین ؓ سے تصدیق چاہی تو انھوں نے حجرے کے اندر سےمذکورہ بالا جواب سنا۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ام المومنین کی یہ بات سن کر خاموش رہے نہ انکار کیا نہ اقرار۔ (صحيح مسلم، الحج، باب بيان عدد عمر النبي صلی اللہ علیہ وسلم وزمانهن، حديث: 1253)
فوائد و مسائل:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اس معاملے میں بھول ہو گئی اس لیے انھوں نے یہ بات یقین کے انداز سے بیان نہیں فرمائی۔
مذکورہ بالا سوال خود حضرت عروہ ؒ ؓنے کیا تھا جب کہ حضرت عروہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے حجرے کے قریب تشریف فرما تھے اور ام المومنین نے ان کا سوال اور جواب سنا۔
اس پر عروہ ؓ نے ام المومنین ؓ سے تصدیق چاہی تو انھوں نے حجرے کے اندر سےمذکورہ بالا جواب سنا۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ام المومنین کی یہ بات سن کر خاموش رہے نہ انکار کیا نہ اقرار۔ (صحيح مسلم، الحج، باب بيان عدد عمر النبي صلی اللہ علیہ وسلم وزمانهن، حديث: 1253)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2998]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3036
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں، میں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرہ سے ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے تھے، اور ہم ان (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے مسواک کرنے کی آواز سن رہے تھے، وہ مسواک کر رہی تھیں، میں نے پوچھا، اے ابو عبدالرحمٰن! کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رجب میں عمرہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا، ہاں۔ تو میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آواز دی، اے امی جان! جو کچھ ابو عبدالرحمٰن کہہ رہے ہیں، کیا وہ آپ سن... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:3036]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے ہیں،
پہلا عمرہ 6 ہجری میں صلح حدیبیہ کے سال ذوالقعدہ میں جومحض اجروثواب کے لحاظ سے ہواعملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھیوں سمیت روک دیا گیا دوسرا اگلے سال 7 ہجری ذوالقعدہ میں جو قضا (صلح)
کے نتیجہ میں ہوا۔
اس لیے عمرہ القضاء کہلایا تیسرا سن 8 ہجری میں فتح مکہ کے بعد جعرانہ سے کیا،
اورچوتھے عمرہ کا احرام،
حج کےساتھ ذوالقعدہ میں باندھا اگرچہ ادا ذوالحجہ میں کیا گیا،
اور ان سب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شریک تھے لیکن ایک عمرہ کو رجب میں قرار دیا،
جس سے معلوم ہوتا ہے بسا اوقات انسان ایک واقعہ میں شریک ہوتا ہے لیکن اس کے وقت ماہ یا سال کو بھول جاتا ہے اس لیے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خاموشی اختیار کر لی۔
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے ہیں،
پہلا عمرہ 6 ہجری میں صلح حدیبیہ کے سال ذوالقعدہ میں جومحض اجروثواب کے لحاظ سے ہواعملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھیوں سمیت روک دیا گیا دوسرا اگلے سال 7 ہجری ذوالقعدہ میں جو قضا (صلح)
کے نتیجہ میں ہوا۔
اس لیے عمرہ القضاء کہلایا تیسرا سن 8 ہجری میں فتح مکہ کے بعد جعرانہ سے کیا،
اورچوتھے عمرہ کا احرام،
حج کےساتھ ذوالقعدہ میں باندھا اگرچہ ادا ذوالحجہ میں کیا گیا،
اور ان سب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شریک تھے لیکن ایک عمرہ کو رجب میں قرار دیا،
جس سے معلوم ہوتا ہے بسا اوقات انسان ایک واقعہ میں شریک ہوتا ہے لیکن اس کے وقت ماہ یا سال کو بھول جاتا ہے اس لیے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خاموشی اختیار کر لی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3036]
Sahih Muslim Hadith 3037 in Urdu
عبد الله بن عمر العدوي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق