صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
45. باب استحباب إدامة الحاج التلبية حتى يشرع في رمي جمرة العقبة يوم النحر:
باب: حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 1282 ترقیم شاملہ: -- 3090
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ: وَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ: وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ.
ابن جریج سے روایت ہے: (کہا:) مجھے ابوزبیر نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، انہوں نے (اپنی) حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے البتہ اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے (اس طرح) اشارہ کر رہے تھے جیسے انسان (اپنی انگلیوں سے) کنکر پھینکتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3090]
امام صاحب یہی روایت ایک دوسرے استاد سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں یہ تذکرہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمیِ جمرہ تک تلبیہ کہتے رہے اور یہ اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ کے اشارے سے بتا رہے تھے، جیسے چٹکی سے انسان کنکری پھینکتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3090]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1282
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير | صدوق إلا أنه يدلس | |
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد ابن جريج المكي ← محمد بن مسلم القرشي | ثقة | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← ابن جريج المكي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة زهير بن حرب الحرشي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة ثبت |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3090 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3090
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں وادی محسر سے لی تھیں۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک رمی جمرہ سے پہلے جہاں سے چاہیے کنکریاں لے سکتا ہے،
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور محدثین کے نزدیک مزدلفہ سے لینا بہتر ہے کنکری ایسی ہوگی جسے دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر پھینکا جا سکے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں وادی محسر سے لی تھیں۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک رمی جمرہ سے پہلے جہاں سے چاہیے کنکریاں لے سکتا ہے،
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور محدثین کے نزدیک مزدلفہ سے لینا بہتر ہے کنکری ایسی ہوگی جسے دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر پھینکا جا سکے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3090]
Sahih Muslim Hadith 3090 in Urdu
ابن جريج المكي ← محمد بن مسلم القرشي