صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
59. باب استحباب النزول بالمحصب يوم النفر والصلاة به:
باب: کوچ کے دن وادی محصب میں اترنا مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1310 ترقیم شاملہ: -- 3167
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ كَانُوا يَنْزِلُونَ الْأَبْطَحَ ".
ایوب نے نافع سے انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ابطح میں پڑاؤ کیا کرتے تھے (واپسی کے وقت مدینہ کے راستے میں منیٰ کے باہر وہیں پڑاؤ کیا جا سکتا تھا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3167]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما وادی «أَبْطَحَ» [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3167]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1310
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3167
| النبي وأبا بكر وعمر كانوا ينزلون الأبطح |
جامع الترمذي |
921
| ينزلون الأبطح |
سنن ابن ماجه |
3069
| ينزلون بالأبطح |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3167 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3167
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(مُحَصَّب کو حَصْبَه،
أَبْطَحَ،
بُطْحَاء)
اور خِیْف بَنِی کِنَانَہ بھی کہتے ہیں۔
حجۃ الوداع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ سے واپسی کے بعد وادی مَحَصَّب میں قیام فرمایا تھا اور یہیں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے لیے واپس ہوئے تھےآپ کی اقتداء میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اور خلفائے راشدین یہاں قیام کرتے تھے اس لیے آئمہ اربعہ کے نزدیک یہاں قیام کرنا مسنون ہے لیکن بعض آئمہ کا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قول کے مطابق نظریہ،
یہ ہے کہ یہاں قیام سنت نہیں ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم محض اپنی سہولت اور آسانی کے لیے یہاں ٹھہرے تھے۔
فوائد ومسائل:
(مُحَصَّب کو حَصْبَه،
أَبْطَحَ،
بُطْحَاء)
اور خِیْف بَنِی کِنَانَہ بھی کہتے ہیں۔
حجۃ الوداع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ سے واپسی کے بعد وادی مَحَصَّب میں قیام فرمایا تھا اور یہیں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے لیے واپس ہوئے تھےآپ کی اقتداء میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اور خلفائے راشدین یہاں قیام کرتے تھے اس لیے آئمہ اربعہ کے نزدیک یہاں قیام کرنا مسنون ہے لیکن بعض آئمہ کا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قول کے مطابق نظریہ،
یہ ہے کہ یہاں قیام سنت نہیں ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم محض اپنی سہولت اور آسانی کے لیے یہاں ٹھہرے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3167]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3069
وادی محصب میں اترنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکرو عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم ابطح میں اترا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3069]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکرو عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم ابطح میں اترا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3069]
اردو حاشہ:
فائده:
مذکورہ بالا حضرات نے مستحب سمجھ کر یہاں قیام کیا تھا لازمی عمل کے طور پر نہیں۔ (فتح الباري: 3/ 746)
فائده:
مذکورہ بالا حضرات نے مستحب سمجھ کر یہاں قیام کیا تھا لازمی عمل کے طور پر نہیں۔ (فتح الباري: 3/ 746)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3069]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 921
وادی ابطح میں قیام کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر، اور عثمان رضی الله عنہم ابطح ۱؎ میں قیام کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 921]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر، اور عثمان رضی الله عنہم ابطح ۱؎ میں قیام کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 921]
اردو حاشہ:
1؎:
ابطح،
بطحاء خیف کنانہ اور محصب سب ہم معنی ہیں اس سے مراد مکہ اور منیٰ کے درمیان کا علاقہ ہے جو منی سے زیادہ قریب ہے۔
1؎:
ابطح،
بطحاء خیف کنانہ اور محصب سب ہم معنی ہیں اس سے مراد مکہ اور منیٰ کے درمیان کا علاقہ ہے جو منی سے زیادہ قریب ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 921]
Sahih Muslim Hadith 3167 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي