صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
59. باب اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلاَةِ بِهِ:
باب: کوچ کے دن وادی محصب میں اترنا مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1309 ترقیم شاملہ: -- 3166
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ شَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ قَالَ: بِمِنًى، قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟، قَالَ: بِالْأَبْطَحِ، ثُمَّ قَالَ: افْعَلْ مَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ.
عبدالعزیز بن رفیع سے روایت ہے انہوں نے کہا میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا میں نے کہا: مجھے ایسی چیز بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی ہو (اور یاد رکھی ہو) آپ نے ترویہ کے دن (آٹھ ذوالحجہ کو) ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی؟ انہوں نے بتایا منیٰ میں۔ میں نے پوچھا: آپ نے (منیٰ سے) واپسی کے دن عصر کی نماز کہاں ادا کی؟ انہوں نے کہا ابطح میں۔ پھر کہا: (لیکن تم) اسی طرح کرو جیسے تمہارے امراء کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3166]
عبدالعزیز بن رفیع رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا، مجھے ایسی بات کی روشنی میں بتائیے، جو آپ نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی ہو، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) پانی پلانے کے دن نماز ظہر کہاں ادا کی؟ انہوں نے جواب دیا، منیٰ میں، میں نے پوچھا، آپ نے روانگی کے دن عصر کی نماز کہاں پڑھی؟ جواب دیا، ابطح (محصب) میں، پھر فرمایا، تم اس طرح کرو جس طرح تمہارے امرا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3166]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1309
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1310 ترقیم شاملہ: -- 3167
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ كَانُوا يَنْزِلُونَ الْأَبْطَحَ ".
ایوب نے نافع سے انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ابطح میں پڑاؤ کیا کرتے تھے (واپسی کے وقت مدینہ کے راستے میں منیٰ کے باہر وہیں پڑاؤ کیا جا سکتا تھا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3167]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما وادی أَبْطَحَ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3167]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1310
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1310 ترقیم شاملہ: -- 3168
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حدثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حدثنا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " كَانَ يَرَى التَّحْصِيبَ سُنَّةً، وَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ يَوْمَ النَّفْرِ بِالْحَصْبَةِ "، قَالَ نَافِعٌ: قَدْ حَصَّبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ.
صخر بن جویریہ نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما محصب میں پڑاؤ کرنے کو سنت سمجھتے تھے اور وہ روانگی کے دن ظہر کی نماز حصبہ (محصب) میں ادا کرتے تھے۔ نافع نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفاء نے وادی محصب میں قیام کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3168]
نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما وادی محصب میں ٹھہرنا سنت سمجھتے تھے، اور وہ سفر کے دن ظہر کی نماز حصبه میں پڑھتے تھے، نافع بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفاء محصب میں اترتے رہے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3168]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1310
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1311 ترقیم شاملہ: -- 3169
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " نُزُولُ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ، إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ إِذَا خَرَجَ "،
عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ہشام نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا ابطح میں ٹھہرنا (اعمال حج کی سنتوں میں سے کوئی) سنت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے تھے کیونکہ (مکہ سے) روانہ ہوتے وقت وہاں سے نکلنا آسان تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3169]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، اَبطَحَ میں اترنا سنت نہیں ہے، وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محض اس لیے اترے تھے کہ وہاں سے جاتے وقت نکلنا آپ کے لیے آسان تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3169]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1311
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1311 ترقیم شاملہ: -- 3170
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حدثنا حَمَّاد يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح وحدثناه أَبُو كَامِلٍ ، حدثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حدثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
حفص بن غیاث، حماد بن زید اور حبیب المعلم سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3170]
امام صاحب اپنے اور تین اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3170]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1311
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1311 ترقیم شاملہ: -- 3171
حدثنا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَابْنَ عُمَرَ: كَانُوا يَنْزِلُونَ الْأَبْطَح، قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُ ذَلِكَ، وَقَالَتْ: " إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ مَنْزِلًا أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ ".
زہری نے سالم سے روایت کی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ابطح میں پڑاؤ کیا کرتے تھے۔ زہری نے کہا مجھے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ وہ ایسا نہیں کرتی تھیں اور (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے تھے کیونکہ پڑاؤ کی وہ جگہ آپ کے (مکہ سے) نکلنے کے لیے زیادہ آسان تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3171]
سالم رحمۃ اللہ علہ بیان کرتے ہیں، حضرت ابوبکر، عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنھم وادی اَبطَحَ میں اترتے تھے، عروہ رحمۃ اللہ علیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں بتاتے ہیں، وہ ایسا نہیں کرتی تھیں، وہ فرماتی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں محض اس لیے اترے تھے، کیونکہ وہ ایسی منزل تھی، جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (مدینہ منورہ کے لیے) نکلنا آسان تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3171]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1311
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1312 ترقیم شاملہ: -- 3172
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " لَيْسَ التَّحْصِيبُ بِشَيْءٍ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا تحصب (محصب میں ٹھہرنا) کوئی چیز نہیں وہ تو پڑاؤ کی ایک جگہ ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3172]
حضرت ابن عباس رضی الله تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، مُحَصَّب میں اترنا کوئی دینی مسئلہ نہیں ہے، وہ تو محض ایک منزل ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3172]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1312
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1313 ترقیم شاملہ: -- 3173
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو رَافِعٍ : " لَمْ يَأْمُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْزِلَ الْأَبْطَحَ حِينَ خَرَجَ مِنْ مِنًى، وَلَكِنِّي جِئْتُ فَضَرَبْتُ فِيهِ قُبَّتَهُ فَجَاءَ فَنَزَلَ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَةِ صَالِح، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: عَنْ أَبِي رَافِعٍ: وَكَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب ان سب نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی انہوں نے صالح بن کیسان سے اور انہوں نے سلیمان بن یسار سے روایت کی انہوں نے کہا حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ نے منیٰ سے نکلے مجھے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں ابطح میں قیام کروں لیکن میں (خود) وہاں آیا اور آپ کا خیمہ لگایا اس کے بعد آپ تشریف لائے اور قیام کیا۔ ابوبکر (بن ابی شیبہ) نے صالح سے (بیان کردہ) روایت میں کہا انہوں (صالح) نے کہا میں نے سلیمان بن یسار سے سنا اور قتیبہ کی روایت میں ہے۔ (سلیمان نے) کہا حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان (کی حفاظت اور نقل و حمل) پر مامور تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3173]
حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ سے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اَبطَحَ میں ٹھہرنے کا حکم نہیں دیا تھا، لیکن میں اپنے طور پر آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ یہاں لگا دیا، آپ وہاں آ کر ٹھہر گئے، امام صاحب کے ایک استاد قتیبہ کی روایت میں ہے کہ ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کی حفاظت پر مامور تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3173]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1313
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1314 ترقیم شاملہ: -- 3174
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " نَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ، حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ ".
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان بن عوف سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”کل ہم ان شاء اللہ خیف بنی کنانہ (وادی محصب) میں قیام کریں گے جہاں انہوں (قریش) نے باہم کفر پر (قائم رہنے کی) قسم کھائی تھی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3174]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل ہم ان شاءاللہ خیف بنو کنانہ میں ٹھہریں گے، جہاں انہوں نے کفر پر باہمی قسمیں اٹھائیں تھیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3174]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1314
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1314 ترقیم شاملہ: -- 3175
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، حدثنا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِمِنًى: " نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ، حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ، وَذَلِكَ إِنَّ قُرَيْشًا، وَبَنِي كِنَانَةَ تَحَالَفَتْ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ، وَلَا يُبَايِعُوهُمْ حَتَّى يُسْلِمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، يَعْنِي بِذَلِكَ: الْمُحَصَّبَ.
اوزاعی نے حدیث بیان کی، (کہا) مجھے زہری نے حدیث سنائی ہے (کہا) مجھ سے ابوسلمہ نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم منیٰ میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ”کل ہم خیف بنو کنانہ میں قیام کریں گے جہاں انہوں (قریش) نے آپس میں مل کر کفر پر (ڈٹے رہنے کی) قسم کھائی تھی۔“ واقعہ یہ تھا کہ قریش اور بنو کنانہ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ وہ نہ ان سے شادی بیاہ کریں گے نہ ان سے لین دین کریں گے۔ یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے کر دیں۔ اس (خیف بنی کنانہ) سے آپ کی مراد وادی محصب تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3175]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، منیٰ میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل ہم خیف بنی کنانہ میں اتریں گے، جہاں انہوں نے آپس میں کفر پر قسمیں اٹھائی تھیں۔“ اس کی صورت یہ ہے کہ قریش اور بنو کنانہ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے خلاف، آپس میں قسمیں اٹھائی تھیں کہ ہم ان سے اس وقت تک شادی و بیاہ اور خرید و فروخت نہیں کریں گے، جب تک یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالہ نہیں کرتے، خیف بنی کنانہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد وادی محصب تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3175]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1314
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة