صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
86. باب الترغيب في سكنى المدينة والصبر على لاوائها:
باب: مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کرنے کی ترغیب اور وہاں کی تکالیف پر صبر کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1374 ترقیم شاملہ: -- 3339
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ: أَنَّهُ جَاءَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَيَالِي الْحَرَّةِ، فَاسْتَشَارَهُ فِي الْجَلَاءِ مِنَ الْمَدِينَةِ، وَشَكَا إِلَيْهِ أَسْعَارَهَا، وَكَثْرَةَ عِيَالِهِ، وَأَخْبَرَهُ أَنْ لَا صَبْرَ لَهُ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ وَلَأْوَائِهَا، فقَالَ لَهُ: وَيْحَكَ لَا آمُرُكَ بِذَلِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا فَيَمُوتَ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا ".
سعید بن ابوسعید نے مہری کے آزاد کردہ غلام، ابوسعید سے روایت کی، وہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس حرہ کی راتوں میں (یعنی جن دنوں مدینہ طیبہ میں ایک فتنہ مشہور ہوا تھا اور ظالموں نے مدینہ کو لوٹا تھا) آئے اور ان سے مشورہ کیا کہ مدینہ سے کہیں اور چلے جائیں اور ان سے وہاں کی گرانی نرخ (مہنگائی) اور کثرت عیال کی شکایت کی اور خبر دی کہ مجھے مدینہ کی محنت اور بھوک پر صبر نہیں آسکتا، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: تیری خرابی ہو، میں تجھے اس کا مشورہ نہیں دوں گا (کیونکہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے: ”کوئی شخص یہاں کی تکلیفوں پر صبر نہیں کرتا اور پھر مر جاتا ہے، مگر یہ کہ میں قیامت کے دن اس کا شفیع یا گواہ ہوں گا اگر وہ مسلمان ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3339]
مہری کے مولیٰ ابوسعید بیان کرتے ہیں کہ میں جنگِ حرہ کے زمانہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے مدینہ سے کہیں اور چلے جانے کا مشورہ لیا، اور ان سے وہاں کی مہنگائی (گرانی) اور اپنے بال بچوں کی کثرت کی شکایت کی، اور ان سے عرض کیا، میں مدینہ کی بھوک اور تکالیف پر صبر نہیں کر سکتا، تو انہوں نے اسے جواب دیا، تجھ پر افسوس، میں تمہیں یہ مشورہ نہیں دے سکتا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”کوئی انسان یہاں کی تکالیف پر صبر کرتے ہوئے نہیں مرتا، مگر میں اس کی قیامت کے دن، بشرطیکہ وہ مسلمان ہو، سفارش کروں گا، یا شہادت دوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3339]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1374
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3339 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3339
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
واقعہ حرہ سے مراد،
وہ واقعہ جو 63 ہجری میں پیش آیا،
جس میں مدینہ منورہ میں بہت قتل وغارت ہوئی تھی کیونکہ اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کے خلیفہ بننے کے بعد،
اس کی بجائے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
اورحضرت علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما زین العابدین نے اس میں یزید کا ساتھ دیا تھا (طبقات لابن سعد ج5 ص215)
امام زین العابدین یزید کے سپہ سالار کے پاس گئے اس نے آپ کو خوش آمدید کہا اور کہا:
(إِنَّ أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ أَوْصَانِيْ بِكَ،
خَيْراً)
(مجھے امیر المومنین نے آپ کے ساتھ خوش اسلوبی اور بہترین رویہ اختیار کرنے کی تلقین کی تھی)
۔
امام زین العابدین نے فرمایا:
(وَصَلّى الله اَميرِ الْمُؤْمِنينَ)
(اللہ امیر المومنین کو اپنے ساتھ بہتر رابطہ قائم کرنے کی توفیق دے۔
)
(حوالہ بالا)
گویا حضرت زین العابدین یزید کے طرز عمل پر مطمئن تھے۔
فوائد ومسائل:
واقعہ حرہ سے مراد،
وہ واقعہ جو 63 ہجری میں پیش آیا،
جس میں مدینہ منورہ میں بہت قتل وغارت ہوئی تھی کیونکہ اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کے خلیفہ بننے کے بعد،
اس کی بجائے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
اورحضرت علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما زین العابدین نے اس میں یزید کا ساتھ دیا تھا (طبقات لابن سعد ج5 ص215)
امام زین العابدین یزید کے سپہ سالار کے پاس گئے اس نے آپ کو خوش آمدید کہا اور کہا:
(إِنَّ أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ أَوْصَانِيْ بِكَ،
خَيْراً)
(مجھے امیر المومنین نے آپ کے ساتھ خوش اسلوبی اور بہترین رویہ اختیار کرنے کی تلقین کی تھی)
۔
امام زین العابدین نے فرمایا:
(وَصَلّى الله اَميرِ الْمُؤْمِنينَ)
(اللہ امیر المومنین کو اپنے ساتھ بہتر رابطہ قائم کرنے کی توفیق دے۔
)
(حوالہ بالا)
گویا حضرت زین العابدین یزید کے طرز عمل پر مطمئن تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3339]
Sahih Muslim Hadith 3339 in Urdu
أبو سعيد المهري ← أبو سعيد الخدري