یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
86. باب الترغيب في سكنى المدينة والصبر على لاوائها:
باب: مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کرنے کی ترغیب اور وہاں کی تکالیف پر صبر کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1374 ترقیم شاملہ: -- 3340
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، وَابْنِ نُمَيْرٍ، قَالَا: حدثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ "، قَالَ: ثُمَّ كَانَ أَبُو سَعِيدٍ يَأْخُذُ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَجِدُ أَحَدَنَا فِي يَدِهِ الطَّيْرُ فَيَفُكُّهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ يُرْسِلُهُ.
سعید بن عبدالرحمان بن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ عبدالرحمان نے انہیں اپنے والد ابوسعید رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”میں مدینہ کی دو سیاہ پتھروں والی زمین کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں، جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔“ کہا: پھر ابوسعید رضی اللہ عنہ ہم میں سے کسی کو پکڑ لیتے، اور ابوبکر نے کہا: ہم میں سے کسی کو دیکھتے کہ اس کے ہاتھ میں پرندہ ہے، تو اسے اس کے ہاتھ سے چھڑاتے، پھر اسے آزاد کر دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3340]
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے مدینہ کے دونوں سنگریزوں (پتھریلے میدانوں) کا درمیانی علاقہ حرم قرار دیا ہے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا،“ حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے عبدالرحمٰن کہتے ہیں، ابو سعید ہم میں سے کسی کے ہاتھ میں پرندہ دیکھتے یا کسی کو اس حال میں پکڑ لیتے کہ اس کے ہاتھ میں پرندہ ہے، تو وہ اس کے ہاتھ سے چھڑوا کر اسے آزاد کر دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3340]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1374
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3340 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3340
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طرز عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ حرم کے کسی پرندہ کو پکڑنا درست نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طرز عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ حرم کے کسی پرندہ کو پکڑنا درست نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3340]
Sahih Muslim Hadith 3340 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي سعيد الخدري ← أبو سعيد الخدري