🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6ق. باب الكشف عن معايب رواة الحديث ونقلة الاخبار وقول الائمة في ذلك ‏‏
باب: حدیث کے راویوں کا عیب بیان کرنا درست ہے اور وہ غیبت میں داخل نہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 34
وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ: أَخْبَرُونِي، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ صَاحِبِ بُهَيَّةَ، أَنَّ أَبْنَاءً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، سَأَلُوهُ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ فِيهِ عِلْمٌ، فَقَالَ لَهُ يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُعْظِمُ أَنْ يَكُونَ مِثْلُكَ وَأَنْتَ ابْنُ إِمَامَيِ الْهُدَى يَعْنِي عُمَرَ وَابْنَ عُمَرَ، تُسْأَلُ عَنْ أَمْرٍ لَيْسَ عِنْدَكَ فِيهِ عِلْمٌ، فَقَالَ: أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ، وَاللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ، وَعِنْدَ مَنْ عَقَلَ عَنِ اللَّهِ، أَنْ أَقُولَ بِغَيْرِ عِلْمٍ، أَوْ أُخْبِرَ، عَنْ غَيْرِ ثِقَةٍ، قَالَ: وَشَهِدَهُمَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حِينَ قَالَا ذَلِك
بشر بن حکم عبدی نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے سفیان بن عیینہ سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھ سے بہت سے لوگوں نے بہیہ کے مولیٰ ابوعقیل سے (سن کر) روایت کی کہ (کچھ) لوگوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے سے کوئی بات پوچھی جس کے بارے میں ان کے علم میں کچھ نہ تھا تو یحییٰ بن سعید نے ان سے کہا: میں اس کو بہت بڑی بات سمجھتا ہوں کہ آپ جیسے انسان سے (جبکہ آپ ہدایت کے دو اماموں یعنی عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے ہیں، کوئی بات پوچھی جائے (اور) اس کے بارے میں آپ کو کچھ علم نہ ہو۔ انہوں نے کہا: بخدا! اللہ کے نزدیک اور اس شخص کے نزدیک جسے اللہ نے عقل دی اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ میں علم کے بغیر کچھ کہوں یا کسی ایسے شخص سے روایت کروں جو ثقہ نہیں۔ (سفیان نے) کہا: ابوعقیل یحییٰ بن متوکل (بھی) ان کے پاس موجود تھے جب انہوں نے یہ بات کی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 34]
بہیہ نامی عورت کے شاگرد اور غلام ابو عقیل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے (پوتے) سے ایک ایسا مسئلہ دریافت کیا جس کے بارے میں وہ علم نہیں رکھتے تھے، تو انہیں یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس کو انتہائی ناگوار سمجھتا ہوں کہ آپ جیسے مرتبہ کے مالک، جو ہدایت کے دو راہنماؤں یعنی عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے ہیں، ان سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے اور وہ اس کے بارے میں علم نہ رکھتے ہوں۔ تو انہوں نے جواب دیا: اس سے زیادہ ناگوار اور گراں اللہ کے ہاں اور ان لوگوں کے ہاں جو اللہ کے بارے میں عقل و شعور رکھتے ہیں، اللہ کی قسم! یہ بات ہے کہ میں علم (دلیل و سند) کے بغیر بات کہہ دوں (رائے پیش کر دوں) یا ناقابل اعتبار روایت پیش کر دوں۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان دونوں (یحییٰ رحمہ اللہ اور قاسم رحمہ اللہ) کی گفتگو کے وقت ابو عقیل یحییٰ بن متوکّل رحمہ اللہ موجود تھے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 34]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (19201 و 19533)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


صحیح مسلم کی حدیث نمبر 34 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 34
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
قاسمؒ کا باپ،
عبیداللہؒ بن عمر بن خطابؓ ہے،
اس لیے عمرؓ اور ابن عمرؓ دونوں اس کے باپ کی صف میں ہیں اس کی ماں ام عبداللہ حضرت ابوبکرؓ کی اولاد ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 34]

Sahih Muslim Hadith 34 in Urdu