صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
61. باب وعيد من اقتطع حق مسلم بيمين فاجرة بالنار:
باب: جھوٹی قسم کھاکر کسی مسلمان کا حق مارنے پر جہنم کی وعید۔
ترقیم عبدالباقی: 138 ترقیم شاملہ: -- 356
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا، وهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الأَعْمَشِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي بِئْرٍ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ.
(اعمش کے بجائے) منصور نے ابووائل سے اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جو شخص ایسی قسم اٹھاتا ہے جس کی بنا پر وہ مال کا حق دار ٹھہرتا ہے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہے تو وہ اللہ کو اس حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہو گا، پھر اعمش کی طرح روایت بیان کی البتہ (اس میں) انہوں نے کہا: میرے اور ایک آدمی کے درمیان کنویں کے بارے میں جھگڑا تھا۔ ہم ہی جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے دو گواہ ہوں یا اس کی قسم (کے ساتھ فیصلہ ہو گا)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 356]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ”جو شخص ایسی جھوٹی قسم اٹھاتا ہے جس کی بنا پر وہ مال کا حق دار ٹھہراتا ہے، وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا۔“ پھر اعمش رحمہ اللہ کی طرح روایت بیان کی، فرق یہ ہے کہ اس نے کہا: میرے اور ایک آدمی کے درمیان کنویں کے بارے میں جھگڑا تھا، تو ہم جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فیصلہ تیرے گواہوں یا اس کی قسم پر ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 356]
ترقیم فوادعبدالباقی: 138
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (353)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 356 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود