علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب تحريم الربيبة واخت المراة:
باب: ربیبہ (بیوی کی بیٹی) اور بیوی کی بہن کی حرمت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1449 ترقیم شاملہ: -- 3586
حدثنا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَت: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، فقَالَ: " أَفْعَلُ مَاذَا "، قُلْتُ: تَنْكِحُهَا، قَالَ: " أَوَ تُحِبِّينَ ذَلِكِ "، قُلْتُ: لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي الْخَيْرِ أُخْتِي، قَالَ: " فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي "، قُلْتُ: فَإِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: " بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي، مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ، وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ ".
ابواسامہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ہشام نے خبر دی، کہا: مجھے میرے والد (عروہ بن زبیر) نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، انہوں نے ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں نے آپ سے عرض کی: کیا آپ میری بہن (عزہ) بنت ابوسفیان کے بارے میں کوئی سوچ رکھتے ہیں؟ آپ نے پوچھا: ”میں کیا کروں؟“ میں نے عرض کی: آپ اس سے نکاح کر لیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو؟“ میں نے عرض کی: میں اکیلی ہی آپ کی بیوی نہیں ہوں اور اپنے ساتھ خیر میں شریک ہونے (کے معاملے) میں (میرے لیے) سب سے زیادہ محبوب میری بہن ہے۔ آپ نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔“ میں نے عرض کی: مجھے خبر دی گئی ہے کہ آپ درہ بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کے لیے نکاح کا پیغام بھیج رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا: ”ام سلمہ کی بیٹی کے لئے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”اگر وہ میری گود میں پروردہ (ربیبہ) نہ ہوتی تو بھی میرے لیے حلال نہ تھی، وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور اس کے والد کو ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا، اس لیے تم خواتین میرے سامنے اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے بارے میں پیش کش نہ کیا کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3586]
حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری بہن، ابو سفیان کی بیٹی سے رغبت نہیں رکھتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”میں کیا کروں؟“ میں نے کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نکاح کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اس کو پسند کرتی ہے؟“ میں نے کہا، میں اکیلی ہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی نہیں ہوں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کی خیر میں مجھے اپنی بہن کی شراکت بہت محبوب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری موجودگی میں وہ میرے لیے جائز نہیں ہے۔“ میں نے کہا، مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابو سلمہ کی بیٹی دُرہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ام سلمہ کی بیٹی۔“ میں نے کہا، جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ میری گود میں پروردہ نہ بھی ہوتی تو بھی میرے لیے جائز نہیں ہے کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ مجھے اور اس کے باپ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا، اس لیے مجھے اپنی بیٹیوں اور بہنوں کی پیشکش نہ کیا کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3586]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1449
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5372
| بنت أخي من الرضاعة أرضعتني وأبا سلمة ثويبة لا تعرضن علي بناتكن ولا أخواتكن |
صحيح البخاري |
5101
| ابنة أخي من الرضاعة أرضعتني وأبا سلمة ثويبة لا تعرضن علي بناتكن ولا أخواتكن |
صحيح البخاري |
5107
| ابنة أخي من الرضاعة أرضعتني وأبا سلمة ثويبة لا تعرضن علي بناتكن ولا أخواتكن |
صحيح البخاري |
5106
| لو لم تكن ربيبتي ما حلت لي أرضعتني وأباها ثويبة لا تعرضن علي بناتكن ولا أخواتكن |
صحيح البخاري |
5123
| أباها أخي من الرضاعة |
صحيح مسلم |
3588
| ابنة أخي من الرضاعة أرضعتني وأبا سلمة ثويبة لا تعرضن علي بناتكن ولا أخواتكن |
صحيح مسلم |
3586
| ابنة أخي من الرضاعة أرضعتني وأباها ثويبة لا تعرضن علي بناتكن ولا أخواتكن |
سنن النسائى الصغرى |
3289
| ابنة أخي من الرضاعة لا تعرضن علي بناتكن ولا أخواتكن |
سنن النسائى الصغرى |
3288
| أباها أخي من الرضاعة |
سنن النسائى الصغرى |
3287
| ابنة أخي من الرضاعة أرضعتني وأبا سلمة ثويبة لا تعرضن علي بناتكن ولا أخواتكن |
سنن النسائى الصغرى |
3286
| ابنة أخي من الرضاعة أرضعتني وأبا سلمة ثويبة لا تعرضن علي بناتكن ولا أخواتكن |
سنن ابن ماجه |
1939
| ابنة أخي من الرضاعة أرضعتني وأباها ثويبة لا تعرضن علي أخواتكن ولا بناتكن |
مسندالحميدي |
309
| فأفعل ماذا |
Sahih Muslim Hadith 3586 in Urdu
زينب بنت أم سلمة المخزومية ← رملة بنت أبي سفيان الأموية