صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
61. باب وعيد من اقتطع حق مسلم بيمين فاجرة بالنار:
باب: جھوٹی قسم کھاکر کسی مسلمان کا حق مارنے پر جہنم کی وعید۔
ترقیم عبدالباقی: 139 ترقیم شاملہ: -- 359
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: إِنَّ هَذَا انْتَزَى عَلَى أَرْضِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ، وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عِبْدَانَ، قَالَ: بَيِّنَتُكَ؟ قَالَ: لَيْسَ لِي بَيِّنَةٌ، قَالَ: يَمِينُهُ؟ قَالَ: إِذًا يَذْهَبُ بِهَا، قَالَ: لَيْسَ لَكَ إِلَّا ذَاكَ، قَالَ: فَلَمَّا قَامَ لِيَحْلِفَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظَالِمًا، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، قَالَ إِسْحَاق فِي رِوَايَتِهِ رَبِيعَةُ بْنُ عَيْدَانَ.
زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم دونوں نے ابوولید سے حدیث سنائی (زہیر نے «عن أبی الولید» کے بجائے «حدثنا هشام بن عبدالملك» ہمیں ہشام بن عبدالملک نے حدیث سنائی، کہا) ہشام بن عبدالملک نے کہا: ہمیں ابوعوانہ نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث سنائی، انہوں نے علقمہ بن وائل سے اور انہوں نے (اپنے والد) حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، آپ کے پاس دو آدمی (ایک قطعہ) زمین پر جھگڑتے آئے، دونوں میں ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے دور جاہلیت میں میری زمین پر قبضہ کیا تھا، وہ امرؤ القیس بن عابس کندی تھا اور اس کا حریف ربیعہ بن عبدان تھا۔ آپ نے فرمایا: ”(سب سے پہلے) تمہارا ثبوت (شہادت)؟“ اس نے کہا: میرے پاس ثبوت نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ”(تب فیصلہ) اس کی قسم (پر ہو گا)“ اس نے کہا: تب تو وہ زمین لے جائے گا۔ آپ نے فرمایا: ”اس کے علاوہ کچھ نہیں۔“ حضرت وائل رضی اللہ عنہ نے کہا: جب وہ قسم کھانے کے لیے اٹھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ظلم کرتے ہوئے کوئی زمین چھینی، وہ اس حالت میں اللہ سے ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا۔“ اسحاق نے اپنی روایت میں (دوسرے فریق کا نام) ربیعہ بن عیدان (باء کے بجائے یاء کے ساتھ) بتایا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 359]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی ایک زمین کا تنازع لائے، تو ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے جاہلیت کے دور میں میری زمین پر قبضہ کر لیا۔ (وہ امرء القیس بن عابس کندی تھا، اس کا حریف ربیعہ بن عبدان تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہی مطلوب ہے۔“ اس نے کہا: ”میرے پاس شہادت نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فیصلہ اس کی قسم پر ہو گا۔“ اس نے کہا: اس صورت میں وہ میری زمین لے جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قسم ہی لے سکتے ہو۔“ تو جب وہ قسم اٹھانے کے لیے اٹھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کی زمین ظلم سے چھینی، وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا۔“ اسحاق رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں ربیعہ بن عبدان کا نام لیا (زہیر رحمہ اللہ نے عبدان باء کے ساتھ کہا تھا اور اسحاق رحمہ اللہ نے یاء (عیدان) کے ساتھ)۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 359]
ترقیم فوادعبدالباقی: 139
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (356)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 359 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 359
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اگر کسی مسئلہ میں دو آدمیوں کا اختلاف ہو،
تو جو مدعی ہوگا (دعوی کرے گا)
،
اگر مدعی علیہ (جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے)
اس کے دعویٰ کو تسلیم نہ کرے تو پھر مدعی کو دو گواہ پیش کرنے ہوئے گے،
اگر وہ گواہ پیش نہ کر سکے تو مدعی علیہ کی قسم قبول کرنی ہوگی،
وہ قسم جھوٹی اٹھائے یا سچی،
اور وہ اچھا انسان ہو یا برا،
بہرحال اس کو قبول کرنا ہوگی۔
فوائد ومسائل:
اگر کسی مسئلہ میں دو آدمیوں کا اختلاف ہو،
تو جو مدعی ہوگا (دعوی کرے گا)
،
اگر مدعی علیہ (جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے)
اس کے دعویٰ کو تسلیم نہ کرے تو پھر مدعی کو دو گواہ پیش کرنے ہوئے گے،
اگر وہ گواہ پیش نہ کر سکے تو مدعی علیہ کی قسم قبول کرنی ہوگی،
وہ قسم جھوٹی اٹھائے یا سچی،
اور وہ اچھا انسان ہو یا برا،
بہرحال اس کو قبول کرنا ہوگی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 359]
علقمة بن وائل الحضرمي ← وائل بن حجر الحضرمي