🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ قَصَدَ أَخْذَ مَالِ غَيْرِهِ بِغَيْرِ حَقٍّ كَانَ الْقَاصِدُ مُهْدَرَ الدَّمِ فِي حَقِّهِ وَإِنْ قُتِلَ كَانَ فِي النَّارِ وَأَنَّ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ:
باب: غیر کا مال ناحق چھیننے والے کا خون رائیگان ہے اور اگر وہ اس لڑائی کے دوران قتل ہو جائے تو جہنمی ہے اور جو مال کی حفاظت میں قتل ہو جائے تو وہ شہید ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 140 ترقیم شاملہ: -- 360
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي؟ قَالَ: فَلَا تُعْطِهِ مَالَكَ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي؟ قَالَ: قَاتِلْهُ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي؟ قَالَ: فَأَنْتَ شَهِيدٌ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ؟ قَالَ: هُوَ فِي النَّارِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کی کیا رائے ہے اگر کوئی آدمی آ کر میرا مال چھیننا چاہے (تو میں کیا کروں؟) آپ نے فرمایا: اسے اپنا مال نہ دو۔ اس نے کہا: آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ میرے ساتھ لڑائی کرے تو؟ فرمایا: تم اس سے لڑائی کرو۔ اس نے پوچھا: آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ مجھے قتل کر دے تو؟ آپ نے فرمایا: تم شہید ہو گے۔ اس نے پوچھا: آپ کی کیا رائے ہے اگر میں اسے قتل کر دوں؟ فرمایا: وہ دوزخی ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 360]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! بتائیے، اگر کوئی آدمی آ کر میرا مال چھیننا چاہے (تو میں کیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنا مال نہ دے۔ اس نے پوچھا: بتائیے، اگر وہ میرے ساتھ لڑائی کرے؟ فرمایا: تو اس سے لڑائی کر! اس نے پوچھا: فرمائیے، اگر وہ مجھے قتل کر دے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو شہید ہے۔ اس نے پوچھا: اگر میں اسے قتل کر دوں؟ فرمایا: وہ دوزخی ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 360]
ترقیم فوادعبدالباقی: 140
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14088)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن يعقوب الجهني، أبو العلاء
Newعبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥العلاء بن عبد الرحمن الحرقي، أبو شبل
Newالعلاء بن عبد الرحمن الحرقي ← عبد الرحمن بن يعقوب الجهني
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن جعفر الأنصاري
Newمحمد بن جعفر الأنصاري ← العلاء بن عبد الرحمن الحرقي
ثقة
👤←👥خالد بن مخلد القطواني، أبو الهيثم
Newخالد بن مخلد القطواني ← محمد بن جعفر الأنصاري
مقبول
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← خالد بن مخلد القطواني
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
360
لا تعطه مالك قال أرأيت إن قاتلني قال قاتله قال أرأيت إن قتلني قال فأنت شهيد قال أرأيت إن قتلته قال هو في النار
سنن ابن ماجه
2582
من أريد ماله ظلما فقتل فهو شهيد
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 360 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 360
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
اپنے مال ودولت کا تحفظ اور بچاؤ ایک اجر وثواب اور فضیلت کا کام ہے،
کیونکہ اگر ہر انسان ظلم کو گوارا کرنا شروع کر دے،
ظالم کا مقابلہ نہ کرے تو ظالم دلیر ہوں گے،
اور ان کی مال ودولت کی ہوس،
ان کو مزید ظلم وستم پر آمادہ کرے گی۔
لیکن اگر ظالموں کا مقابلہ ہوگا،
ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،
تو ظلم وستم کا راستہ بند ہوگا۔
اس لیے شریعت اس کام کو اجر وثواب کا باعث قرار دیتی ہے،
تاکہ لوگوں کے اندر ظالموں کی راہ روکنے کی ہمت وجرأت پیدا ہو۔
بد قسمتی سے آج ہم نے اس حدیث پر عمل کرنا چھوڑ دیا؟ اس لیے دن بدن قتل وغارت اور دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
(2)
دوسروں پر ظلم وستم ڈھانا،
کسی کا مال چھیننا،
اس قدر گھناؤنا فعل ہے کہ ایسے شخص کا خون محترم نہیں رہتا،
اس کا ضرورت کی صورت میں خون بہانا جائز ہوگا،
اور اس فعل کا خاصہ جہنم کی سزا ہے،
اگر توبہ نہ کی یا معافی نہ ملی۔
اور اس کے ہاتھوں مظلوم مرنے والا آخرت کے اجر وثواب کی رو سے شہید ہوگا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 360]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2582
اپنے مال کی حفاظت میں قتل کیا جانے والا شہید ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے اس کا مال ناجائز طریقے سے لینے کا ارادہ کیا جائے، اور وہ اس کے بچانے میں قتل کر دیا جائے، تو وہ شہید ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2582]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ہرشخص کو حق حاصل ہےکہ اس کی جان اس کامال اس کی عزت محفوظ رہے لہٰذا حملہ آور کےخلاف دفاع کرنا اس کا حق ہے۔

(2)
مال کی حفاظت کے لیے حملہ آور کےخلاف لڑنا جائز ہے توعزت اورجان کی حفاظت کےلڑنا بالاولیٰ جائزہوگا۔

(3)
دفاع کرنےوالا شہید ہوجائے تو وہ شہید ہے تاہم اس کا درجہ ایمان کی حفاظت یا اسلامی سلطنت کی حفاظت کے لیے جہاد کرتے ہوئے شہید سے کم ہے۔
ایسے شخص کو باقاعدہ غسل اور کفن دے کردفن کیا جائے جب کہ معرکہ جہاد کےشہید کےلیےغسل اور کفن ضرورت نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2582]

Sahih Muslim Hadith 360 in Urdu