صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب كراء الارض بالذهب والورق:
باب: سونے اور چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینا۔
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3952
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ : عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟ فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ، إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ، وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، وَأَشْيَاءَ مِنَ الزَّرْعِ، فَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا، فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا، فَلِذَلِكَ زُجِرَ عَنْهُ، فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ، فَلَا بَأْسَ بِهِ ".
اوزاعی نے ہمیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حنظلہ بن قیس انصاری نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے اور چاندی (دینار اور درہم) کے عوض زمین کو بٹائی پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ (امر واقع یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں لوگ نہروں کی زمین، چھوٹے نالوں کے کناروں کی زمین اور (متعین مقدار میں) فصل کی کچھ اشیاء کے عوض زمین اجرت پر دیتے تھے۔ کبھی یہ (حصہ) تباہ ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ تباہ ہو جاتا، لوگوں میں بٹائی (کرائے پر دینے) کی صرف یہی صورت تھی، اسی لیے اس سے منع کیا گیا، البتہ معلوم اور محفوظ چیز جس کی ادایگی کی ضمانت دی جا سکتی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3952]
حضرت حنظلہ بن قیس انصاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے زمین سونے اور چاندی کے عوض ٹھیکہ پر دینے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے جواب دیا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تو لوگ صرف ماذیانات کے کنارے والی زمین، کھال کے شروع والی زمین (جہاں پانی خوب لگتا ہے) اور کچھ معین کھیتی کے عوض زمین اجرت پر دیتے تھے، کبھی مالک کا حصہ تباہ ہو جاتا اور مزارع کا حصہ محفوظ رہتا اور کبھی اس کے برعکس مالک کا حصہ محفوظ رہتا اور مزارع کا تباہ ہو جاتا، لوگوں میں اجرت کی شکل یہی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روک دیا، اگر کرایہ کوئی معین چیز ہو، جس کے تلف نہ ہونے کی ضمانت ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3952]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3952 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3952
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں زمین کرایہ (اجرت،
بٹائی)
پر دینے کی ممانعت کی اصل وجہ اور سبب بیان کر دیا گیا ہے کہ جس صورت میں ایک فریق کا نقصان ہو اور دوسرا فریق نقصان سے محفوظ رہے،
ظاہر ہے ایک سال کے ٹھیکے میں تو اس کا احتمال ہے،
لیکن مزارعت میں اس کا احتمال نہیں ہے،
کیونکہ نفع اور نقصان میں دونوں فریق شریک ہوتے ہیں،
لیکن (ٹھیکہ)
کی صورت میں اگر فصل آفت کا شکار ہو گئی تو ٹھیکیدار کا نقصان ہو گا اور مالک تو اپنا ٹھیکہ پہلے وصول کر چکا ہو گا،
اس لیے وہ نقصان سے محفوظ رہے گا،
اور مزارعت کی صورت میں نقصان میں دونوں شریک ہوں گے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں زمین کرایہ (اجرت،
بٹائی)
پر دینے کی ممانعت کی اصل وجہ اور سبب بیان کر دیا گیا ہے کہ جس صورت میں ایک فریق کا نقصان ہو اور دوسرا فریق نقصان سے محفوظ رہے،
ظاہر ہے ایک سال کے ٹھیکے میں تو اس کا احتمال ہے،
لیکن مزارعت میں اس کا احتمال نہیں ہے،
کیونکہ نفع اور نقصان میں دونوں فریق شریک ہوتے ہیں،
لیکن (ٹھیکہ)
کی صورت میں اگر فصل آفت کا شکار ہو گئی تو ٹھیکیدار کا نقصان ہو گا اور مالک تو اپنا ٹھیکہ پہلے وصول کر چکا ہو گا،
اس لیے وہ نقصان سے محفوظ رہے گا،
اور مزارعت کی صورت میں نقصان میں دونوں شریک ہوں گے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3952]
Sahih Muslim Hadith 3952 in Urdu
حنظلة بن قيس الأنصاري ← رافع بن خديج الأنصاري