🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب وَضْعِ الْجَوَائِحِ:
باب: آفت سے جو نقصان ہو اس کو مجرا دینا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1554 ترقیم شاملہ: -- 3976
وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابوعاصم نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3976]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3976]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1554
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليدثقة
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم
Newالضحاك بن مخلد النبيل ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← الضحاك بن مخلد النبيل
ثقة حافظ له تصانيف
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3976 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3976
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
جائحة جمع جوائح:
قدرتی آفت جو پھل کو تباہ و برباد کر دے۔
فوائد ومسائل:
وہ باغ جس کا پھل فروخت کیا گیاہے،
اور پھل آفت کے نتیجہ میں ضائع ہو گیا ہے،
اس کی مندرجہ ذیل صورت ہیں:
(ا)
پھل پکنے کی صلاحیت کے ظاہر ہونے کے بعد پکانے کے لیے فروخت کیا گیا تھا،
پھر وہ آفت کا شکار ہو گیا،
تو اس صورت میں بالاتفاق،
بائع،
مشتری سے قیمت وصول نہیں کرسکتا،
کیونکہ بالاتفاق یہ بیع باطل اور ناجائزہے،
کالعدم ہے۔
(ب)
باغ کا پھل اس شرط پر فروخت کیا گیا کہ اس کو فورا توڑ لینا ہے،
درختوں پر پکانا نہیں ہے،
بدوصلاح سے چاہے پہلے فروخت کیا گیا،
یا بعد میں،
لیکن ابھی مشتری کو قبضہ نہیں دیا گیا تھا کہ وہ آفت کا شکار ہو گیا،
اس صورت میں بھی بالا تفاق فروخت کرنے والا ذمہ دار ہے،
وہ قیمت وصول نہیں کر سکتا،
ہاں اگر مشتری کو قبضہ دے دیا،
اور کہا اپناپھل فوراً توڑ لے،
لیکن اس نے لیت ولعل سے کام لیا،
(آج توڑتا ہوں،
کل توڑلوں گا)
اور وقت گزرتا گیا،
اور باغ آفت کا شکار ہو گیا،
تو اس صورت میں بالاتفاق مشتری ذمہ دار ہے،
اسے قیمت ادا کرنی ہو گی۔
(ج)
باغ فروخت کیا،
(بدوصلاح سے پہلے یا بعد)
اور پھل توڑنے کے قابل ہو گیا،
لیکن توڑنے سے پہلے آفت کا شکار ہو گیا،
اس صورت میں مشتری ذمہ دار ہے،
اور بالاتفاق بائع اس سے قیمت وصول کر سکتا ہے،
اگر وہ چھوڑ دیتا ہے،
یا کم کر دیتا ہے تو یہ اس کی نیکی اور احسان ہوگا،
اس پر لازم نہیں ہے۔
(د)
باغ بدو صلاح کے بعد فروخت کیا ہے،
توڑنے یا پکانے کی شرط نہیں لگائی،
اور مشتری کے حوالہ کر دیا،
پھر وہ آفت کا شکار ہو گیا،
اس میں ائمہ کا اختلاف ہے،
(1)
جمہور سلف،
امام ابو حنیفہ،
امام لیث بن سعد،
اور امام شافعی کا قول جدید اور امام داؤد کا یہی موقف ہے کہ اس صورت میں مشتری ذمہ دار ہے۔
(2)
اہل مدینہ،
امام مالک اور یحیٰ بن سعید انصاری کے نزدیک،
اگر مال پھل کا تہائی حصہ یا اس سے کم ضائع ہواہے تو مشتری ذمہ دار ہے،
اور اگر ایک تہائی سے زائد نقصان ہوا ہے،
تو پھر بائع ذمہ دار ہے۔
(3)
جتنا پھل ضائع ہواہے،
الا یہ کہ معمولی ہو،
اس کا ذمہ دار مالک ہے،
امام احمد،
ابو عبید اور امام شافعی کا قول قدیم یہی ہے،
مسلمان کی ہمدردی اور خیرخواہی کا تقاضا یہی ہے،
لیکن اس کی ترغیب اور تحریص ہی دلائی جاسکتی ہے،
اس کو لازم یا فرض قرار نہیں دیا جا سکتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3976]

Sahih Muslim Hadith 3976 in Urdu