صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب وَضْعِ الْجَوَائِحِ:
باب: آفت سے جو نقصان ہو اس کو مجرا دینا۔
ترقیم عبدالباقی: 1554 ترقیم شاملہ: -- 3975
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا ". ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا، فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا، بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ ".
ابن وہب نے ہمیں ابن جریج سے خبر دی کہ ابوزبیر نے انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم نے اپنے بھائی کو پھل بیچا ہے۔“ نیز ابوضمرہ نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزبیر سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اپنے بھائی کو پھل بیچو اور وہ کسی قدرتی آفات کا شکار ہو جائے تو تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم اس سے کچھ وصول کرو۔ تم ناحق اپنے بھائی کا مال کس بنا پر وصول کرو گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3975]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ کی سند سے ابن جریج کے واسطہ سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما کی روایت بیان کرتے ہیں، ایک استاد کہتے ہیں، إن بعت [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3975]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1554
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1554 ترقیم شاملہ: -- 3976
وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابوعاصم نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3976]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3976]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1554
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1555 ترقیم شاملہ: -- 3977
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ "، فَقُلْنَا لِأَنَسٍ: مَا زَهْوُهَا؟ قَالَ: تَحْمَرُّ، وَتَصْفَرُّ، أَرَأَيْتَكَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ، بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ؟.
اسماعیل بن جعفر نے حمید سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگ بدلنے تک کھجور کا پھل بیچنے سے منع فرمایا۔ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اس کے رنگ بدلنے (زھو) سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: وہ سرخ ہو جائے اور زرد ہو جائے، تمہاری کیا رائے ہے اگر اللہ تعالیٰ نے پھل روک دیا، تو تم کس بنیاد پر اپنے بھائی کا مال اپنے لیے حلال سمجھو گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3977]
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کا پھل رنگت کی تبدیلی سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا، ہم نے انس رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا، ذهو سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا، سرخ و زرد رنگ ہونا، بتاؤ، اگر اللہ تعالیٰ نے پھل سے محروم کر دیا، تو اپنے بھائی کا مال تمہارے لیے کیسے حلال ہو گیا؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3977]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1555
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1555 ترقیم شاملہ: -- 3978
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُزْهِيَ "، قَالُوا: وَمَا تُزْهِيَ؟ قَالَ: تَحْمَرُّ، فَقَالَ: إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ، فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ؟.
امام مالک نے حمید الطویل سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگ پکڑنے سے پہلے پھل کی بیع سے منع فرمایا۔ لوگوں نے پوچھا: رنگ پکڑنے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ سرخ ہو جائے اور کہا: جب اللہ تعالیٰ پھلوں سے محروم کر دے تو تم کس بنیاد پر اپنے بھائی کا مال اپنے لیے حلال سمجھو گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3978]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زهو [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3978]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1555
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1555 ترقیم شاملہ: -- 3979
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنْ لَمْ يُثْمِرْهَا اللَّهُ، فَبِمَ يَسْتَحِلُّ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ؟ ".
عبدالعزیز بن محمد نے حمید کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ اسے بارآور نہ کرے تو تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے مال کو کس بنیاد پر اپنے لیے حلال سمجھے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3979]
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ نے پھل نہ لگایا تو تم اپنے بھائی کے مال کو اپنے لیے کیسے حلال قرار دو گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3979]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1555
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1554 ترقیم شاملہ: -- 3980
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَاللَّفْظُ لِبِشْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ ". قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ، وَهُوَ صَاحِبُ مُسْلِمٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، بِهَذَا.
بشر بن حکم، ابراہیم بن دینار اور عبدالجبار بن علاء سے روایت ہے، الفاظ بشر کے ہیں، سب نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حمید اعرج سے حدیث بیان کی، انہوں نے سلیمان بن عتیق سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آفات سے پہنچنے والے نقصان کی صورت میں (قیمت) ساقط کر دینے کا حکم دیا ہے۔ ابواسحاق ابراہیم نے، وہ امام مسلم کے شاگرد ہیں، کہا: مجھے عبدالرحمٰن بن بشر نے بھی سفیان سے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3980]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آفات سے پہنچنے والے نقصان کو وضع کرنے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3980]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1554
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة