صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب فضل إنظار المعسر:
باب: مفلس کو مہلت دینے کی اور قرض وصول کرنے میں آسانی کرنے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1560 ترقیم شاملہ: -- 3996
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " أُتِيَ اللَّهُ بِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِهِ، آتَاهُ اللَّهُ مَالًا، فَقَالَ لَهُ: مَاذَا عَمِلْتَ فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ: وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا، قَالَ: يَا رَبِّ، آتَيْتَنِي مَالَكَ، فَكُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ وَكَانَ مِنْ خُلُقِي الْجَوَازُ، فَكُنْتُ أَتَيَسَّرُ عَلَى الْمُوسِرِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ، فَقَالَ اللَّهُ: أَنَا أَحَقُّ بِذَا مِنْكَ، تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي "، فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ ، وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ : هَكَذَا سَمِعْنَاهُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سعد بن طارق نے ربعی بن حراش سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ”اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے بندوں میں سے ایک بندہ پیش کیا گیا: اللہ نے اسے مال دیا تھا، تو اللہ نے اس سے پوچھا: تو نے دنیا میں کیا عمل کیا؟ انہوں نے کہا: اور وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپائیں گے۔ اس نے عرض کی: میرے رب! تو نے مجھے مال دیا تھا، میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا اور میری عادت نرمی اور آسانی کرنا تھی۔ میں مالدار پر آسانی کرتا اور تنگ دست کو مہلت دیتا تھا۔ تو اللہ عزوجل نے فرمایا: تمہاری نسبت میں اس کا زیادہ حق رکھتا ہوں، (فرشتو!) تم بھی میرے بندے سے درگزر کرو۔“ حضرت عقبہ بن عامر جہنی اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے بھی یہ حدیث اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے سنی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3996]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ کے پاس اس کے بندوں میں سے ایک بندہ لایا گیا، جسے اللہ تعالیٰ نے مال سے نوازا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: دنیا میں تو نے کیا کام کیا؟ (راوی نے کہا: ﴿لوگ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے﴾ [سورة النساء: 42] ) اس نے جواب دیا: اے میرے آقا! تو نے مجھے اپنے مال سے نوازا اور میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا تھا، اور میرا رویہ درگزر تھا، میں مالدار کو آسانی اور سہولت دیتا اور تنگدست کو مہلت دیتا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں تجھ سے زیادہ اس کا حق دار ہوں، میرے بندے سے درگزر کرو،“ تو عقبہ بن عامر جہنی اور ابو مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3996]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1560
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3996 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3996
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
امام دار قطنی فرماتے ہیں،
یہ روایت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،
جن کا نام عقبہ بن عمرو ہے،
ابو خالد احمر کو وہم لاحق ہوا،
اس نے،
اسے عقبہ بن عامر بنا دیا،
اسے یوں کہنا چاہیے تھا،
(فقال عقبة بن عمرو ابو مسعود انصاري)
اور اکثر محدثین کے نزدیک یہ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوئے،
لیکن چشمہ بدر پر رہائش اختیار کرلی تھی،
اس لیے بدری کے نام سے مشہور ہو گئے۔
فوائد ومسائل:
امام دار قطنی فرماتے ہیں،
یہ روایت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،
جن کا نام عقبہ بن عمرو ہے،
ابو خالد احمر کو وہم لاحق ہوا،
اس نے،
اسے عقبہ بن عامر بنا دیا،
اسے یوں کہنا چاہیے تھا،
(فقال عقبة بن عمرو ابو مسعود انصاري)
اور اکثر محدثین کے نزدیک یہ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوئے،
لیکن چشمہ بدر پر رہائش اختیار کرلی تھی،
اس لیے بدری کے نام سے مشہور ہو گئے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3996]
Sahih Muslim Hadith 3996 in Urdu
عقبة بن عامر الجهني ← أبو مسعود الأنصاري