صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب فضل إنظار المعسر:
باب: مفلس کو مہلت دینے کی اور قرض وصول کرنے میں آسانی کرنے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1560 ترقیم شاملہ: -- 3995
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّ رَجُلًا مَاتَ، فَدَخَلَ الْجَنَّةَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا كُنْتَ تَعْمَلُ؟ قَالَ: فَإِمَّا ذَكَرَ، وَإِمَّا ذُكِّرَ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ، فَكُنْتُ أُنْظِرُ الْمُعْسِرَ، وَأَتَجَوَّزُ فِي السِّكَّةِ، أَوْ فِي النَّقْدِ، فَغُفِرَ لَهُ "، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبدالملک بن عمیر نے ربعی بن حراش سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی: ”ایک آدمی فوت ہوا اور جنت میں داخل ہوا تو اس سے کہا گیا: تو کیا عمل کرتا تھا؟۔۔ کہا: اس نے خود یاد کیا یا اسے یاد کرایا گیا۔۔ اس نے کہا: (اے میرے پروردگار!) میں لوگوں سے (قرض پر) خرید و فروخت کرتا تھا، تو میں تنگ دست کو مہلت دیتا اور سکہ اور نقدی وصول کرنے میں نرمی کرتا تھا، تو اس کی مغفرت کر دی گئی۔“ اس پر حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی یہی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3995]
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں، ”ایک آدمی مر کر جنت میں داخل ہو گیا، اس سے پوچھا گیا، تم کیا عمل کرتے تھے؟ راوی نے بتایا، اسے خود یاد آ گیا یا اسے (فرشتوں نے) یاد دلایا، اس نے کہا: میں لوگوں کو سودا بیچتا تھا، (اور اس میں) میں تنگدست کو مہلت دیتا تھا، اور سکہ دینار ودرہم، یا نقدی کی وصولی میں درگزر کرتا تھا، یعنی نقدی کے عیب یا معمولی کمی سے درگزر کرتا تھا، تو اسے معاف کر دیا گیا“ حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا: میں نے بھی یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3995]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1560
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2391
| كنت أبايع الناس فأتجوز عن الموسر وأخفف عن المعسر فغفر له |
صحيح مسلم |
3994
| كنت رجلا ذا مال فكنت أطالب به الناس فكنت أقبل الميسور وأتجاوز عن المعسور فقال تجاوزوا عن عبدي |
صحيح مسلم |
3995
| كنت أبايع الناس فكنت أنظر المعسر وأتجوز في السكة أو في النقد فغفر له |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3995 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3995
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جنت میں داخلہ کا فیصلہ سال و جواب کے نتیجہ میں معافی ملنے کے بعد ہوگا،
چونکہ یہ واقعہ ایک قطی حقیقت ہے،
جسے پیش آنا ہے،
اس کا اسے یوں بیان کردیا گیا ہے،
گویا کہ یہ پیش آچکا ہے،
یا موت کے بعد ہی اپنے عملوں کے مطابق،
جنت اور دوزخ کے حالات کا آغاز ہو جاتا ہے،
اس لیے اس کو جنت میں داخل ہونے سے تعبیر کر دیا ہے،
کیونکہ پہلی روایت میں یہی سوال وجواب فرشتے،
روح کے قبض کرنے کے بعد کر چکے ہیں،
اور وہاں معافی مل چکی ہے۔
فوائد ومسائل:
جنت میں داخلہ کا فیصلہ سال و جواب کے نتیجہ میں معافی ملنے کے بعد ہوگا،
چونکہ یہ واقعہ ایک قطی حقیقت ہے،
جسے پیش آنا ہے،
اس کا اسے یوں بیان کردیا گیا ہے،
گویا کہ یہ پیش آچکا ہے،
یا موت کے بعد ہی اپنے عملوں کے مطابق،
جنت اور دوزخ کے حالات کا آغاز ہو جاتا ہے،
اس لیے اس کو جنت میں داخل ہونے سے تعبیر کر دیا ہے،
کیونکہ پہلی روایت میں یہی سوال وجواب فرشتے،
روح کے قبض کرنے کے بعد کر چکے ہیں،
اور وہاں معافی مل چکی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3995]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2391
2391. حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ایک شخص مراتو اس سے پوچھا گیا: تو کیا کرتا تھا؟ اس نے کہا کہ میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا جو لوگ کشادہ حال ہوتے ان سے درگزر کرتا اور جو لوگ تنگ دست ہوتے ان کا بوجھ ہلکا کردیتا تھا۔ تو اس کے گناہ معاف کردیے گئے۔“ حضرت ابو مسعود ؓ کہتے ہیں۔ میں نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2391]
حدیث حاشیہ:
اس سے تقاضے میں نرمی کرنے کی فضیلت ثابت ہوئی۔
اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا ﴿وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ﴾ (البقرة: 280)
یعنی اگر مقروض تنگ دست ہو تو اس کو ڈھیل دینا بہتر ہے۔
اور اگر اس پر صدقہ ہی کردو تو یہ اور بھی بہتر ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ عمل عنداللہ بہت ہی پسندیدہ ہے۔
اس سے تقاضے میں نرمی کرنے کی فضیلت ثابت ہوئی۔
اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا ﴿وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ﴾ (البقرة: 280)
یعنی اگر مقروض تنگ دست ہو تو اس کو ڈھیل دینا بہتر ہے۔
اور اگر اس پر صدقہ ہی کردو تو یہ اور بھی بہتر ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ عمل عنداللہ بہت ہی پسندیدہ ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2391]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2391
2391. حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ایک شخص مراتو اس سے پوچھا گیا: تو کیا کرتا تھا؟ اس نے کہا کہ میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا جو لوگ کشادہ حال ہوتے ان سے درگزر کرتا اور جو لوگ تنگ دست ہوتے ان کا بوجھ ہلکا کردیتا تھا۔ تو اس کے گناہ معاف کردیے گئے۔“ حضرت ابو مسعود ؓ کہتے ہیں۔ میں نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2391]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے تقاضا کرتے وقت نرمی کرنے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کا بھی ذکر ہے کہ وہ معمولی سی نیکی کے بدلے بڑے بڑے گناہ معاف کر دیتا ہے کیونکہ جب انسان اچھی نیت سے کوئی نیکی کرتا ہے تو اللہ کی رحمت سے وہ خسارے میں نہیں رہتا۔
(2)
حدیث میں مذکور نیکی کو قرآن کریم نے ایک دوسرے انداز سے بیان کیا ہے کہ اگر مقروض تنگ دست ہے تو اسے کشادگی تک مزید مہلت دے دو اور اگر بالکل ہی معاف کر دو تو یہ سب سے زیادہ بہتر ہے۔
(البقرة: 280: 2)
بہرحال تقاضا کرتے وقت نرمی اور فراخ دلی کا مظاہرہ کرنا اللہ کے ہاں انتہائی پسندیدہ عمل ہے۔
(1)
اس حدیث سے تقاضا کرتے وقت نرمی کرنے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کا بھی ذکر ہے کہ وہ معمولی سی نیکی کے بدلے بڑے بڑے گناہ معاف کر دیتا ہے کیونکہ جب انسان اچھی نیت سے کوئی نیکی کرتا ہے تو اللہ کی رحمت سے وہ خسارے میں نہیں رہتا۔
(2)
حدیث میں مذکور نیکی کو قرآن کریم نے ایک دوسرے انداز سے بیان کیا ہے کہ اگر مقروض تنگ دست ہے تو اسے کشادگی تک مزید مہلت دے دو اور اگر بالکل ہی معاف کر دو تو یہ سب سے زیادہ بہتر ہے۔
(البقرة: 280: 2)
بہرحال تقاضا کرتے وقت نرمی اور فراخ دلی کا مظاہرہ کرنا اللہ کے ہاں انتہائی پسندیدہ عمل ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2391]
حذيفة بن اليمان العبسي ← أبو مسعود الأنصاري