صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب بيع الطعام مثلا بمثل:
باب: برابر برابر اناج کی بیع۔
ترقیم عبدالباقی: 1594 ترقیم شاملہ: -- 4084
وحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا التَّمْرُ مِنْ تَمْرِنَا؟، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِعْنَا تَمْرَنَا صَاعَيْنِ بِصَاعٍ مِنْ هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: هَذَا الرِّبَا فَرُدُّوهُ ثُمَّ بِيعُوا تَمْرَنَا وَاشْتَرُوا لَنَا مِنْ هَذَا ".
ابونضرہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور لائی گئی تو آپ نے فرمایا: ”یہ کھجور ہماری کھجور میں سے نہیں۔“ اس پر ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے اپنی کھجور کے دو صاع اس کھجور کے ایک صاع کے عوض بیچے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سود ہے، اسے واپس کرو، پھر ہماری کھجور (نقدی کے عوض) فروخت کرو اور (اس کی قیمت سے) ہمارے لیے یہ کھجور خریدو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4084]
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں لائی گئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہماری کھجوروں میں سے تو نہیں ہیں،“ تو (لانے والے) آدمی نے کہا، ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں اس کے ایک صاع کے عوض بیچ دی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سودی معاملہ ہے، اس کو واپس کرو، پھر ہماری کھجوریں بیچو اور ہمارے لیے ان کو خرید لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4084]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1594
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4084 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4084
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
جہالت اور ناواقفیت کی بنا پر اگر غلط یا ممنوع لین دین کر لیا جائے،
تو اس کو فسخ (توڑنا،
کالعدم قرار دینا)
ہو گا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
جہالت اور ناواقفیت کی بنا پر اگر غلط یا ممنوع لین دین کر لیا جائے،
تو اس کو فسخ (توڑنا،
کالعدم قرار دینا)
ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4084]
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري