صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
29. باب غرز الخشب في جدار الجار:
باب: ہمسایہ کی دیوار میں لکڑی گاڑنا۔
ترقیم عبدالباقی: 1609 ترقیم شاملہ: -- 4131
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
سفیان بن عیینہ، یونس اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4131]
امام صاحب اپنے پانچ اور اساتذہ کی اسناد سے، زہری کی سند ہی سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4131]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1609
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4131 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4131
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ہمسایہ،
اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی،
شہتیر وغیرہ گاڑ لینے دے،
جبکہ اس کی دیوار کو اس سے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچتا ہو،
یہ حکم امام ابو حنیفہ،
امام مالک اور امام شافعی کے قول جدید کی رو سے اخلاقی حق ہے،
قانونی حق نہیں ہے،
مکارم اخلاق کا تقاضا یہی ہے،
لیکن امام احمد،
امام اسحاق،
اور بعض اہل ظاہر اور ابن حبیب مالکی کے نزدیک یہ قانونی حق ہے اور لازم ہے،
اور حضرت ابو ہریرہ جب مدینہ منورہ کے گورنر تھے،
تو فرماتے تھے،
میں یہ کام جبراً کروں گا،
جس سے معلوم ہوتا ہے،
اکثر لوگ اس کو استحبابی کام تصور کرتے تھے،
صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہ اخلاقی حق ہے اور مالک بلاوجہ ہٹ دھرمی کرتے ہوئے اگر اجازت نہ دے،
تو بعض مواقع اور مصالح کے تحت حاکم اس پر جبرا عمل کروا سکتا ہے۔
فوائد ومسائل:
ہمسایہ،
اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی،
شہتیر وغیرہ گاڑ لینے دے،
جبکہ اس کی دیوار کو اس سے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچتا ہو،
یہ حکم امام ابو حنیفہ،
امام مالک اور امام شافعی کے قول جدید کی رو سے اخلاقی حق ہے،
قانونی حق نہیں ہے،
مکارم اخلاق کا تقاضا یہی ہے،
لیکن امام احمد،
امام اسحاق،
اور بعض اہل ظاہر اور ابن حبیب مالکی کے نزدیک یہ قانونی حق ہے اور لازم ہے،
اور حضرت ابو ہریرہ جب مدینہ منورہ کے گورنر تھے،
تو فرماتے تھے،
میں یہ کام جبراً کروں گا،
جس سے معلوم ہوتا ہے،
اکثر لوگ اس کو استحبابی کام تصور کرتے تھے،
صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہ اخلاقی حق ہے اور مالک بلاوجہ ہٹ دھرمی کرتے ہوئے اگر اجازت نہ دے،
تو بعض مواقع اور مصالح کے تحت حاکم اس پر جبرا عمل کروا سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4131]
معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري