علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
75. باب في ذكر المسيح ابن مريم والمسيح الدجال:
باب: مسیح ابن مریم اور مسیح دجال کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 171 ترقیم شاملہ: -- 429
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبِطُ الشَّعْرِ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَاءً، أَوْ يُهَرَاقُ رَأْسُهُ مَاءً، قُلْتُ مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا ابْنُ مَرْيَمَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ، فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ، جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ، أَعْوَرُ الْعَيْنِ، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: الدَّجَّالُ أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ ".
ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے، انہوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب میں نیند میں تھا، میں نے اپنے آپ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور دیکھا کہ ایک آدمی ہے جس کا رنگ گندمی ہے، بال سیدھے ہیں، اور دو آدمیوں کے درمیان ہے، اس کا سر پانی ٹپکا رہا تھا (یا اس کا سر پانی گرا رہا تھا)، میں نے پوچھا: ’یہ کون ہیں؟‘ (جواب دینے والوں نے) کہا: ’یہ ابن مریم ہیں۔‘ پھر میں دیکھتا گیا تو اچانک ایک سرخ رنگ کا آدمی (سامنے) تھا، جسم کا بھاری، سر کے بال گھنگریالے، آنکھ کانی، جیسے ابھرا ہوا انگور کا دانہ ہو، میں نے پوچھا: ’یہ کون ہے؟‘ انہوں نے کہا: ’دجال ہے،‘ لوگوں میں اس کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ ابن قطن ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 429]
سالم بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ اپنے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں سو رہا تھا کہ اس اثناء میں، میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہوں۔ اچانک میری ایک آدمی پر نظر پڑی، جس کے بال سیدھے، رنگ گندمی ہے، دو آدمیوں کے درمیان ہے، اس کے سر سے پانی بہہ رہا ہے یا اس کے سر سے پانی گر رہا ہے۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ابن مریم علیہ السلام ہے۔ پھر میں دیکھنے لگا، تو میری نظر ایک سرخ آدمی پر پڑی جس کا جسم بھاری تھا، سر کے بال گھنگریالے تھے، آنکھ کانی تھی، گویا کہ اس کی آنکھ ابھرا ہوا انگور تھی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: دجال ہے۔ لوگوں میں سب سے زیادہ اس کے مشابہ ابن قطن ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 429]
ترقیم فوادعبدالباقی: 171
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (7007)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3441
| بينما أنا نائم أطوف بالكعبة فإذا رجل آدم سبط الشعر يهادى بين رجلين يهراق رأسه ماء فقلت من هذا قالوا ابن مريم إذا رجل أحمر جسيم جعد الرأس أعور عينه اليمنى كأن عينه عنبة طافية قلت من هذا قالوا هذا الدجال وأقرب الناس به |
صحيح البخاري |
7026
| بينا أنا نائم رأيتني أطوف بالكعبة فإذا رجل آدم سبط الشعر بين رجلين ينطف رأسه ماء فقلت من هذا قالوا ابن مريم إذا رجل أحمر جسيم جعد الرأس أعور العين اليمنى كأن عينه عنبة طافية قلت من هذا قالوا هذا الدجال أقرب الناس به شبها ابن قطن |
صحيح البخاري |
7128
| بينا أنا نائم أطوف بالكعبة فإذا رجل آدم سبط الشعر ينطف أو يهراق رأسه ماء قلت من هذا قالوا ابن مريم إذا رجل جسيم أحمر جعد الرأس أعور العين كأن عينه عنبة طافية قالوا هذا الدجال أقرب الناس به شبها ابن قطن رجل من خزاعة |
صحيح مسلم |
429
| بينما أنا نائم رأيتني أطوف بالكعبة فإذا رجل آدم سبط الشعر بين رجلين ينطف رأسه ماء قلت من هذا قالوا هذا ابن مريم إذا رجل أحمر جسيم جعد الرأس أعور العين كأن عينه عنبة طافية قلت من هذا قالوا الدجال |
صحيح مسلم |
427
| رأيت عند الكعبة رجلا آدم سبط الرأس واضعا يديه على رجلين يقطر رأسه فسألت من هذا فقالوا المسيح ابن مريم رأيت وراءه رجلا أحمر جعد الرأس أعور العين اليمنى أشبه من رأيت به ابن قطن فسألت من هذا |
Sahih Muslim Hadith 429 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي