🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
75. باب في ذكر المسيح ابن مريم والمسيح الدجال:
باب: مسیح ابن مریم اور مسیح دجال کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 172 ترقیم شاملہ: -- 430
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي الْحِجْرِ، وَقُرَيْشٌ تَسْأَلُنِي عَنْ مَسْرَايَ، فَسَأَلَتْنِي عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أُثْبِتْهَا، فَكُرِبْتُ كُرْبَةً مَا كُرِبْتُ مِثْلَهُ قَطُّ، قَالَ: فَرَفَعَهُ اللَّهُ لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ مَا يَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ، إِلَّا أَنْبَأْتُهُمْ بِهِ، وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنَ الأَنْبِيَاءِ، فَإِذَا مُوسَى قَائِمٌ يُصَلِّي، فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ جَعْدٌ، كَأَنَّهُ مِنَ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَإِذَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام، قَائِمٌ يُصَلِّي أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ "، وَإِذَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام، قَائِمٌ يُصَلِّي أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ صَاحِبُكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ، فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنً الصَّلَاةِ، قَالَ قَائِلٌ: يَا مُحَمَّدُ هَذَا مَالِكٌ صَاحِبُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ، فَبَدَأَنِي بِالسَّلَامِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے آپ کو حجر (حطیم) میں دیکھا، قریش مجھ سے میرے رات کے سفر کے بارے میں سوال کر رہے تھے، انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی کچھ چیزوں کے بارے میں پوچھا جو میں نے غور سے نہ دیکھی تھیں، میں اس قدر پریشانی میں مبتلا ہوا کہ کبھی اتنا پریشان نہ ہوا تھا، آپ نے فرمایا: اس پر اللہ تعالیٰ نے اس (بیت المقدس) کو اٹھا کر میرے سامنے کر دیا، میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا، وہ مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی پوچھتے، میں انہیں بتا دیتا۔ اور میں نے خود کو انبیاء کی ایک جماعت میں دیکھا تو وہاں موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے، جیسے قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ایک ہوں۔ اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو دیکھا، وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اور (وہاں) ابراہیم علیہ السلام بھی کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ تمہارے صاحب ہیں، آپ نے اپنی ذات مراد لی، پھر نماز کا وقت ہو گیا تو میں نے ان سب کی امامت کی۔ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو ایک کہنے والے نے کہا: اے محمد! یہ مالک ہیں، جہنم کے داروغے، انہیں سلام کہیے: میں ان کی طرف متوجہ ہوا تو انہوں نے پہل کر کے مجھے سلام کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 430]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واقعی میں نے اپنے آپ کو حجر میں دیکھا، قریش مجھ سے میرے اسراء کے بارے میں سوال کر رہے تھے، انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی کچھ چیزوں کے بارے میں پوچھا جو مجھے محفوظ نہ تھیں، تو میں اس قدر پریشان ہوا کہ کبھی اتنا پریشان نہیں ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو اٹھا کر میرے سامنے کر دیا، میں اسے دیکھ رہا تھا، وہ مجھ سے جس چیز کے بارے میں پوچھتے، میں انہیں اس کے بارے میں بتا دیتا۔ اور میں نے اپنے آپ کو انبیاء علیہم السلام کی ایک جماعت میں دیکھا، میں نے موسیٰ علیہ السلام کو اس حال میں دیکھا کہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، وہ ایک آدمی تھے، ہلکے پھلکے، گٹھا ہوا بدن، جیسا کہ وہ شنوءہ (قبیلہ) کے مردوں میں سے ہیں۔ اور اچانک عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو دیکھا کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں، لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اور ابراہیم علیہ السلام بھی کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں، لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ تمہارے ساتھی ہیں (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم )۔ نماز کا وقت ہو گیا، تو میں نے ان کی امامت کی۔ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو مجھے ایک کہنے والے نے کہا: اے محمد! یہ مالک آگ کا داروغہ ہے، اسے سلام کہیے۔ میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو اس نے مجھے پہلے سلام کہہ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 430]
ترقیم فوادعبدالباقی: 172
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14965)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥عبد الله بن الفضل القرشي
Newعبد الله بن الفضل القرشي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون، أبو عبد الله، أبو الأصبغ
Newعبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون ← عبد الله بن الفضل القرشي
ثقة فقيه مصنف
👤←👥حجين بن المثنى اليمامي، أبو عمر
Newحجين بن المثنى اليمامي ← عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون
ثقة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← حجين بن المثنى اليمامي
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 430 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 430
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جن انبیاء کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھتے دیکھا،
آپ کو یہ کیفیت اس دور کی دکھائی گئی جس میں وہ نماز پڑھا کرتے تھے،
آپ آج ایک وڈیو فلم تیار کرلیں،
تو ایک عرصہ کے بعد جبکہ اس کے شرکاء وفات پا چکے ہوں گے،
آپ ان کو اپنی زندگی والے کام کرتے دیکھ سکیں گے۔
انسان مخلوق ہو کر اس قسم کے کام کر رہا ہے،
اور آئندہ نامعلوم جدید اکتشافات کا کیا عالم ہوگا،
اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کسی قدر راز افشاہوں گے۔
اس لیے صحیح احادیث میں بیان کردہ واقعات کے بارے میں کسی شک وشبہ میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے اور نہ ان کی تاویل وتحریف کرنا چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 430]

Sahih Muslim Hadith 430 in Urdu