Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب الصائل على نفس الإنسان او عضوه إذا دفعه المصول عليه فاتلف نفسه او عضوه لا ضمان عليه:
باب: جب کوئی دوسرے کی جان یا عضو پر حملہ کرے اور وہ اس کو دفع کرے اور دفع کرنے میں حملہ کرنے والے کی جان یا عضو کو نقصان پہنچے تو اس پر کچھ تاوان نہ ہو گا (یعنی حفاظت خود اختیاری جرم نہیں ہے)۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1673 ترقیم شاملہ: -- 4367
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى ، عَنْ يَعْلَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4367]
امام صاحب یہی روایت دو اور اساتذہ کی سند سے یعلیٰ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4367]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1673
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥يعلى بن منية التميمي، أبو خالد، أبو صفوان، أبو خلفصحابي
👤←👥صفوان بن يعلى التميمي
Newصفوان بن يعلى التميمي ← يعلى بن منية التميمي
ثقة
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← صفوان بن يعلى التميمي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← محمد بن بشار العبدي
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4367 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4367
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام منیہ ہے اور والدہ کا نام امیہ ہے،
اور بقول بعض منیہ،
ان کی دادی کا نام ہے،
اور دوسرا آدمی جس سے جھگڑا ہوا ہے،
وہ حضرت یعلیٰ کا اپنا اجیر (مزدور)
ہی تھا،
اور حضرت یعلیٰ نے اس کا ہاتھ چبایا تھا،
لیکن انہوں نے اس حرکت کو اپنی شان اور مقام کے منافی سمجھتے ہوئے،
کاٹنے والے کی تصریح نہیں کی،
اور کنایہ و تعریض سے کام لیا۔
(2)
بعض روایات میں ایک ثنیہ کا ذکر ہے،
اور بعض میں دو کا،
ممکن ہے ایک گر گیا ہو اور ایک ہلنے لگا ہو،
گرا نہ ہو،
اس لیے جس نے اس کے نقصان کو ملحوظ رکھا،
گرنے سے تعبیر کر دیا،
اور جس نے یہ دیکھا،
وہ گرا تو نہیں ہے،
اس نے ایک کے گرنے کا تذکرہ کیا،
مزید برآں واقعہ کی ہر جزئی کے بارے میں یقینی بات کرنا مشکل ہوتا ہے،
اس لیے راویوں میں،
واقعات کی بعض جزئیات یا تفصیلات میں اختلاف پایا جاتا ہے،
اس لیے اس اختلاف کا اثر اصل واقعہ پر نہیں پڑتا،
کہ اس کو ہی مشکوک ٹھہرا دیا جائے،
اس بنیاد پر اس کا انکار کر دیا جائے،
واقعات کی تفصیل بیان کرتے وقت عینی شاہدوں کے درمیان بعض باتوں میں اختلاف ہو جاتا ہے۔
(3)
جمہور کے نزدیک اگر کوئی انسان حملہ آور سے اپنا دفاع کرتا ہے،
اور دفاع کی صورت اس کے سوا ممکن نہیں ہے،
کہ وہ حملہ آور کو کچھ نقصان پہنچائے،
جس طرح یہاں ہاتھ کھینچنے بغیر چارہ نہیں تھا،
تو ایسی صورت میں اس پر قصاص یا دیت نہیں ہے،
امام مالک سے منقول ہے،
کہ ان کے نزدیک ہاتھ کاٹنے والے کو تاوان ادا کرنا ہو گا،
اور ابن لیلیٰ کا بھی یہی موقف ہے،
لیکن بعض مالکیوں نے امام صاحب کے قول کی توجیہ یہ کی ہے،
کہ یہ اس صورت میں جب وہ ہاتھ نرمی اور سہولت کے ساتھ،
دانت گرائے بغیر کھینچ سکتا تھا،
لیکن اس نے زیادتی کرتے ہوئے،
جان بوجھ کر اس کا دانت گرایا۔
(4)
ائمہ ثلاثہ ابو حنیفہ،
مالک اور امام شافعی کے نزدیک اپنی جان کا دفاع اور تحفظ فرض ہے،
اور امام احمد کا ایک قول بھی یہی ہے،
اس دور میں اگر لوگ ان ائمہ کے نظریہ کے مطابق اپنی جان کا تحفظ اور دفاع کرنا فرض سمجھ لیں،
تو آج کل جو دہشت گردی و غنڈہ گردی ہو رہی ہے،
اس میں کافی حد تک کمی واقع ہو جائے،
دفاع شرعی کے اصول اور تفصیلات کے لیے علامہ عبدالقادر عودہ شہید کی کتاب التشریع الجنائی الاسلامی قابل مطالعہ ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4367]