صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب الصائل على نفس الإنسان او عضوه إذا دفعه المصول عليه فاتلف نفسه او عضوه لا ضمان عليه:
باب: جب کوئی دوسرے کی جان یا عضو پر حملہ کرے اور وہ اس کو دفع کرے اور دفع کرنے میں حملہ کرنے والے کی جان یا عضو کو نقصان پہنچے تو اس پر کچھ تاوان نہ ہو گا (یعنی حفاظت خود اختیاری جرم نہیں ہے)۔
ترقیم عبدالباقی: 1673 ترقیم شاملہ: -- 4368
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ " أَنَّ رَجُلًا عَضَّ ذِرَاعَ رَجُلٍ، فَجَذَبَهُ، فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبْطَلَهُ وَقَالَ: أَرَدْتَ أَنْ تَأْكُلَ لَحْمَهُ ".
ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے دوسرے کی کلائی کو دانتوں سے کاٹا، اس نے اسے کھینچا تو اس (کاٹنے والے) کا سامنے والا دانت گر گیا، یہ مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اس (نقصان) کو رائیگاں قرار دیا اور فرمایا: ”کیا تم اس کا گوشت کھانا چاہتے تھے؟“ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4368]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کا ہاتھ (کلائی) کاٹ لیا، اس شخص نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، جس سے اس کا سامنے کا دانت گر گیا، مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رائیگاں قرار دیا اور فرمایا: ”کیا تم یہ چاہتے تھے کہ اس کا گوشت کھا لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4368]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1673
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6892
| يعض أحدكم أخاه كما يعض الفحل لا دية لك |
صحيح مسلم |
4370
| يدع يده في فيك تقضمها كما يقضم الفحل ادفع يدك حتى يعضها ثم انتزعها |
صحيح مسلم |
4368
| رجلا عض ذراع رجل فجذبه فسقطت ثنيته فرفع إلى النبي فأبطله وقال أردت أن تأكل لحمه |
جامع الترمذي |
1416
| يعض أحدكم أخاه كما يعض الفحل لا دية لك أنزل الله والجروح قصاص |
سنن النسائى الصغرى |
4766
| أردت أن تقضم ذراع أخيك كما يقضم الفحل فأبطلها |
سنن النسائى الصغرى |
4765
| لا دية لك |
سنن النسائى الصغرى |
4764
| يعض أحدكم أخاه كما يعض الفحل لا دية له |
سنن النسائى الصغرى |
4763
| أردت أن تقضم لحم أخيك كما يقضم الفحل |
سنن النسائى الصغرى |
4762
| إن شئت فادفع إليه يدك حتى يقضمها ثم انتزعها إن شئت |
سنن ابن ماجه |
2657
| يقضم أحدكم كما يقضم الفحل |
بلوغ المرام |
1028
| يعض أحدكم كما يعض الفحل ؟ لا دية له |
زرارة بن أوفى العامري ← عمران بن حصين الأزدي