🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب غزوة احد:
باب: جنگ احد کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1790 ترقیم شاملہ: -- 4644
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ مُطَرِّفٍ كُلُّهُمْ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ أُصِيبَ وَجْهُهُ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُطَرِّفٍ جُرِحَ وَجْهُهُ.
ابن عیینہ، سعید بن ابی ہلال اور محمد بن مطرف، ان سب نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، ابن ابی ہلال کی حدیث میں ہے: آپ کا چہرہ مبارک نشانہ بنایا گیا اور ابن مطرف کی حدیث میں ہے: آپ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4644]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے ابو حازم کی حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے ہیں اور ابن ابی حلال کی روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی کر دیا گیا اوپر جرح [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4644]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1790
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيىصحابي
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم
Newسلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي
ثقة
👤←👥محمد بن مطرف الليثي، أبو غسان
Newمحمد بن مطرف الليثي ← سلمة بن دينار الأعرج
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← محمد بن مطرف الليثي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن سهل التميمي، أبو بكر
Newمحمد بن سهل التميمي ← سعيد بن أبي مريم الجمحي
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي هلال الليثي، أبو العلاء
Newسعيد بن أبي هلال الليثي ← محمد بن سهل التميمي
ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← سعيد بن أبي هلال الليثي
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥عمرو بن سواد القرشي، أبو محمد
Newعمرو بن سواد القرشي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن سواد القرشي
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن أبي عمر العدني، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي عمر العدني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← محمد بن أبي عمر العدني
ثقة حافظ إمام
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة ثبت
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← زهير بن حرب الحرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4644 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4644
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جنگ احد میں جب مسلمانوں نے شاندار فتح حاصل کرلی تو جبل رماۃ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن تیر اندازوں کو متعین فرمایا تھا،
انہوں نے ایک خوفناک غلطی کا ارتکاب کیا،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر حال میں اپنے پہاڑی مورچے پر ڈٹے رہنے کی سخت تاکید فرمائی،
لیکن ان تاکیدی احکامات کے باوجود جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان دشمن کا مال غنیمت لوٹ رہے ہیں تو وہ بھی اس کی لالچ میں،
اپنے مورچہ کو چھوڑنے کے لیے تیار ہوگئے ان کے کمانڈر نے انہیں رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے احکامات یاد دلائے،
لیکن ان کی غالب اکثریت نے ان کی بات کو اہمیت نہیں دی،
پچاس میں سے چالیس تیر اندازوں نے اپنے مورچے چھوڑ دیئے اور مال غنیمت سمیٹنے کے لیے عام لشکر کے کے ساتھ آ ملے،
خالد بن ولید نے اس زریں موقعہ سے فائدہ اٹھایا،
چند لمحوں میں حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہ جانے والے چند ساتھیوں کا صفایا کر کے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے،
ان کے شہسواروں نے ایک نعرہ بلند کیا،
جس سے مشرکین کا شکست خوردہ لشکر دوبارہ جمع ہو گیا،
اب مسلمان آگے اور پیچھے سے گھیرے میں آ گئے،
اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف نو صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ پیچھے تشریف فرما تھے،
آزمائش کے اس نازک ترین لمحہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جان بچا کر بھاگنے کی بجائے،
اپنی جان خطرہ میں ڈال کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بچانے کا فیصلہ کیا اور نہایت بلند آواز سے صحابہ کو پکارا،
اللہ کے بندو! ادھر آؤ،
مشرکوں کو پتہ چل گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر ہیں،
لہٰذا ان کا دستہ مسلمانوں سے پہلے آنے تک پہنچ گیا،
اس وقت یہ واقعہ پیش آیا کہ مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پورا بوجھ ڈال دیا اور چاہا کہ آپ کا کام تمام کر دیں،
اس حملہ میں عتبہ بن ابی وقاص نے آپ کو پتھر مارا،
جس سے آپ پہلو کے بل گر گئے اور آپ کا داہنا نچلا رباعی دانت ٹوٹ گیا اور آپ کا نچلا ہونٹ زخمی ہو گیا،
عبداللہ بن قمیئہ نے ایک زوردار تلوار ماری،
جو آنکھ سے نیچے کی ابھری ہوئی ہڈی پر لگی،
اس کی وجہ سے خود کی دو کڑیاں آپ کے چہرے انور کے اندر گھس گئیں،
اس نے کہا،
لیجئے! میں قمئیہ (توڑنے والا)
کا بیٹا ہوں،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے سے خون پونچھتے ہوئے فرمایا،
اللہ تجھے توڑ ڈالے۔
جنگ اُحد کی تفصیلات سیرت کی کتابوں میں دیکھیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4644]