صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
15. باب إذا بويع لخليفتين:
باب: جب دو خلیفوں سے بیعت ہو۔
ترقیم عبدالباقی: 1853 ترقیم شاملہ: -- 4799
وحَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الْآخَرَ مِنْهُمَا ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو خلیفوں کے لیے بیعت لی جائے تو ان میں سے دوسرے کو قتل کر دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4799]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو خلیفوں کی بیعت کر لی جائے، تو ان میں سے دوسرے کو قتل کر دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4799]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1853
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4799 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4799
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
جب ایک خلیفہ کی بیعت پر لوگ عام طور پر متفق ہو گئے ہیں،
پھر دوسرا اپنی خلافت کے لیے بیعت لیتا ہے اور روکنے کے باوجود باز نہیں آتا اور اس کے قتل کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا،
تو اس کو قتل کر دیا جائے گا،
کیونکہ اس کے بغیر ملت اسلامیہ کی وحدت و یگانت برقرار نہیں رہ سکتی اور اس کو انتشار و افتراق سے محفوظ نہیں کیا جا سکتا،
لیکن آج دین اور سیاست کے نام پر،
اپنے مفادات کے لیے،
اقتدار پسند افراد نے لوگوں کو دینی اور سیاسی گروہوں اور جماعتوں میں تقسیم کر دیا ہے اور پھر تقسیم در تقسیم کا منحوس چکر چل نکلا ہے،
جس کی بنا پر امت میں وحدت و یگانت پیدا کرنا جوئے شیر لانا بن گیا ہے،
کیونکہ جمہوریت کے نام پر انتخاب کی جس دیوی کی قصیدہ خوانی کی جاتی ہے،
اس نے آج تک انتشار کے سوا کچھ نہیں دیا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
جب ایک خلیفہ کی بیعت پر لوگ عام طور پر متفق ہو گئے ہیں،
پھر دوسرا اپنی خلافت کے لیے بیعت لیتا ہے اور روکنے کے باوجود باز نہیں آتا اور اس کے قتل کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا،
تو اس کو قتل کر دیا جائے گا،
کیونکہ اس کے بغیر ملت اسلامیہ کی وحدت و یگانت برقرار نہیں رہ سکتی اور اس کو انتشار و افتراق سے محفوظ نہیں کیا جا سکتا،
لیکن آج دین اور سیاست کے نام پر،
اپنے مفادات کے لیے،
اقتدار پسند افراد نے لوگوں کو دینی اور سیاسی گروہوں اور جماعتوں میں تقسیم کر دیا ہے اور پھر تقسیم در تقسیم کا منحوس چکر چل نکلا ہے،
جس کی بنا پر امت میں وحدت و یگانت پیدا کرنا جوئے شیر لانا بن گیا ہے،
کیونکہ جمہوریت کے نام پر انتخاب کی جس دیوی کی قصیدہ خوانی کی جاتی ہے،
اس نے آج تک انتشار کے سوا کچھ نہیں دیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4799]
Sahih Muslim Hadith 4799 in Urdu
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري