علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
24. باب النهي ان يسافر بالمصحف إلى ارض الكفار إذا خيف وقوعه بايديهم:
باب: قرآن شریف کافروں کے ملک لے جانا منع ہے جب یہ ڈر ہو کہ ان کے ہاتھ لگ جائے گا۔
ترقیم عبدالباقی: 1869 ترقیم شاملہ: -- 4842
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَالثَّقَفِيُّ كُلُّهُمْ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ جَمِيعًا، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَالثَّقَفِيِّ فَإِنِّي أَخَافُ، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَحَدِيثِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ.
اسماعیل بن علیہ، سفیان اور ثقفی سب نے ایوب سے حدیث بیان کی، ایوب اور ضحاک بن عثمان نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ ابن علیہ اور ثقفی کی حدیث میں ہے: ”مجھے خوف ہے“ اور سفیان اور ضحاک بن عثمان کی حدیث میں ہے: ”اس خوف سے کہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4842]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی سندوں سے مذکورہ بالا حدیث بیان کرتے ہیں، ابن علیہ اور ثقفی کی روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیونکہ میں ڈرتا ہوں۔“ سفیان اور ضحاک کی روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مبادا وہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4842]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1869
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4842 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4842
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
اگر قرآن مجید کے کافر کے ہاتھ لگنے سے یہ خطرہ ہو کہ وہ اس کی توہین کریں گے،
یا اس کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کریں گے،
تو پھر ان کے ہاتھ لگنے سے بچانا چاہیے اور اگر یہ خطرہ نہ ہو،
بلکہ یہ امید ہو کہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے،
اس سے متاثر ہو کر اسلام کی طرف راغب ہوں گے،
اسلام سے ان کی دشمنی کم ہو گی یا وہ مسلمان ہو جائیں گے،
تو پھر ان کو دینے یا ان کے پاس چلے جانے میں کوئی حرج نہیں۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
اگر قرآن مجید کے کافر کے ہاتھ لگنے سے یہ خطرہ ہو کہ وہ اس کی توہین کریں گے،
یا اس کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کریں گے،
تو پھر ان کے ہاتھ لگنے سے بچانا چاہیے اور اگر یہ خطرہ نہ ہو،
بلکہ یہ امید ہو کہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے،
اس سے متاثر ہو کر اسلام کی طرف راغب ہوں گے،
اسلام سے ان کی دشمنی کم ہو گی یا وہ مسلمان ہو جائیں گے،
تو پھر ان کو دینے یا ان کے پاس چلے جانے میں کوئی حرج نہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4842]
Sahih Muslim Hadith 4842 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي