صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
32. باب من قتل في سبيل الله كفرت خطاياه إلا الدين:
باب: شہید کا ہر گناہ شہادت کے وقت معاف ہو جاتا ہے سوائے قرض کے۔
ترقیم عبدالباقی: 1886 ترقیم شاملہ: -- 4884
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُكَفِّرُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا الدَّيْنَ ".
سعید بن ابی ایوب نے کہا: مجھے عیاش بن عباس قتبانی نے ابوعبدالرحمٰن حبلی سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں قتل کیے جانے سے قرض کے سوا باقی تمام گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4884]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں قتل ہونا قرض کے سوا ہر چیز کا کفارہ بنتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4884]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1886
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4884 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4884
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شہادت سے قرضہ کے سوا تمام حقوق معاف ہو جاتے ہیں،
جبکہ دوسری احادیث کی روشنی میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ کبیرہ گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے،
الا یہ کہ اللہ تعالیٰ خود معاف فرما دے،
جس طرح ایک انسان قرضہ،
ادائیگی کی نیت سے لیتا ہے اور وہ ادائیگی کی کوشش بھی کرتا ہے اور اس کی نیت بھی یہی ہے کہ میں قرضہ ہر صورت میں ادا کرنا ہے،
لیکن ادا نہیں کر سکتا،
تو اللہ تعالیٰ قرض خواہ کو اپنی طرف سے اجر و ثواب دے کر راضی فرما دے گا اور مقروض کو معاف فرما دے گا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شہادت سے قرضہ کے سوا تمام حقوق معاف ہو جاتے ہیں،
جبکہ دوسری احادیث کی روشنی میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ کبیرہ گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے،
الا یہ کہ اللہ تعالیٰ خود معاف فرما دے،
جس طرح ایک انسان قرضہ،
ادائیگی کی نیت سے لیتا ہے اور وہ ادائیگی کی کوشش بھی کرتا ہے اور اس کی نیت بھی یہی ہے کہ میں قرضہ ہر صورت میں ادا کرنا ہے،
لیکن ادا نہیں کر سکتا،
تو اللہ تعالیٰ قرض خواہ کو اپنی طرف سے اجر و ثواب دے کر راضی فرما دے گا اور مقروض کو معاف فرما دے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4884]
Sahih Muslim Hadith 4884 in Urdu
عبد الله بن يزيد المعافري ← عبد الله بن عمرو السهمي