Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب في بيان ان ارواح الشهداء في الجنة وانهم احياء عند ربهم يرزقون:
باب: شہیدوں کی روحیں جنت میں ہیں اور یہ کہ وہ اپنے رب کے نزدیک زندہ ہیں رزق دیئے جاتے ہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1887 ترقیم شاملہ: -- 4885
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ جميعا، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ سورة آل عمران آية 169، قَالَ: أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ، تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمُ اطِّلَاعَةً، فَقَالَ: هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا؟ قَالُوا: أَيَّ شَيْءٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا "، فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَكُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا، قَالُوا: يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى، فَلَمَّا رَأَى أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِكُوا.
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی: جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کیے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھو، وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں، ان کو رزق دیا جاتا ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے بھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا، آپ نے فرمایا: ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر رہتی ہیں، ان کے لیے عرش الہیٰ کے ساتھ قندیلں لٹکی ہوئی ہیں، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں، ان کے رب نے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا: کیا تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہم (اور) کیا خواہش کریں، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے اور کھاتے پیتے ہیں۔ اللہ نے تین بار ایسا کیا (جھانک کر دیکھا اور پوچھا۔) جب انہوں نے دیکھا کہ ان کو چھوڑا نہیں جائے گا، ان سے سوال ہوتا رہے گا تو انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دیا جائے یہاں تک کہ ہم دوبارہ تیری راہ میں شہید کیے جائیں۔ جب اللہ تعالیٰ یہ دیکھے گا کہ ان کو کوئی حاجت نہیں ہے تو ان کو چھوڑ دیا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4885]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی تین سندوں سے بیان کرتے ہیں، کہ مسروق نے کہا، ہم نے عبداللہ یعنی ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا، جو اللہ کی راہ میں قتل کر دئیے جاتے ہیں، ان کو مردے خیال نہ کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں، رزق دئیے جاتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4885]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1887
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥عبد الله بن مرة الهمداني
Newعبد الله بن مرة الهمداني ← مسروق بن الأجدع الهمداني
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عبد الله بن مرة الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥أسباط بن محمد القرشي، أبو محمد
Newأسباط بن محمد القرشي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← أسباط بن محمد القرشي
ثقة حافظ
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← محمد بن نمير الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو
Newعيسى بن يونس السبيعي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة مأمون
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← عيسى بن يونس السبيعي
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة حافظ إمام
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة حافظ صاحب تصانيف
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا
Newيحيى بن يحيى النيسابوري ← ابن أبي شيبة العبسي
ثقة ثبت إمام
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4885 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4885
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ شہداء کی ارواح جنت میں سبز پرندوں کے پیٹوں میں ہیں،
یعنی ان کے جسم و بدن کی جگہ انہیں سبز پرندوں کی شکل میں جسم ملا ہے،
جس میں وہ جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور عرش سے لٹکے ہوئے قنادیل میں رہتے ہیں اور ان کی دنیا میں آنے کی خواہش پوری نہیں ہوتی،
اس جہاں سے ان کا تعلق منقطع ہو جاتا ہے اور برزخی جہاں سے ان کا تعلق قائم ہو جاتا ہے،
لیکن عام مومنوں کی روح کو پرندہ کی شکل دی جاتی ہے،
جبکہ شہید کی روح سبز پرندے کے پیٹ میں ہے،
اس لیے دونوں میں فرق ہے،
دونوں کا مقام و مرتبہ یکساں نہیں ہے اور جنت کی نعمتوں سے لطف اندوزی میں بھی برابر نہیں ہے،
لیکن اس جہان میں اس کی مکمل تفصیلات کو جاننا ممکن نہیں ہے،
لیکن اس حدیث سے تناسخ یا آواگون پر استدلال درست نہیں ہے،
کیونکہ تناسخ میں روح اسی جہان فانی میں ایک جسم سے نکل کر دوسرے جسم میں داخل ہوتی ہے،
پھر اس سے نکل کر کسی دوسرے میں داخل ہوتی ہے،
اس طرح عذاب و ثواب کا چکر اسی دنیا میں چلتا رہتا ہے،
جبکہ شہداء کی ارواح اس دنیا کی بجائے برزخ کے عالم میں سبز پرندوں میں ہیں،
دنیا سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور پھر قیامت تک ان سے نکل کر کسی اور جسم میں نہیں جانا ہے اور تناسخ میں تو یہ چکر بار بار اسی دنیا میں چل رہا ہے اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے،
جنت اب بھی موجود ہے،
جہاں شہداء کی ارواح نعمتوں سے بھرپور طریقہ سے متمتع ہو رہی ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4885]