صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب النهي عن صبر البهائم:
باب: جانوروں کو باندھ کر مارنا منع ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1959 ترقیم شاملہ: -- 5063
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنَ الدَّوَابِّ صَبْرًا ".
یحییٰ بن سعید، محمد بن بکیر اور حجاج بن محمد نے کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں میں سے کسی بھی چیز کو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5063]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے عبداللہ بن جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی روایت بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کسی جانور کو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5063]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1959
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5063
| يقتل شيء من الدواب صبرا |
سنن ابن ماجه |
3188
| أن يقتل شيء من الدواب صبرا |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5063 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5063
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور جانور کو باندھ کر نشانہ بنانا،
اس کے لیے تکلیف اور اذیت کا باعث ہے،
اس لیے آپ نے اس کو باندھ کر تختہ مشق بنانے سے منع فرمایا ہے اور یہ حرکت کرنے والے پر لعنت بھیجی ہے،
کیونکہ جانور کو ذبح کرنے کا حکم ہے،
اس طرح ہدف بنا کر اس کو پھینک دینا اس کا ضیاع ہے،
اس طرح یہ دوہرا جرم ہے۔
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور جانور کو باندھ کر نشانہ بنانا،
اس کے لیے تکلیف اور اذیت کا باعث ہے،
اس لیے آپ نے اس کو باندھ کر تختہ مشق بنانے سے منع فرمایا ہے اور یہ حرکت کرنے والے پر لعنت بھیجی ہے،
کیونکہ جانور کو ذبح کرنے کا حکم ہے،
اس طرح ہدف بنا کر اس کو پھینک دینا اس کا ضیاع ہے،
اس طرح یہ دوہرا جرم ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5063]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3188
جانور کو باندھ کر نشانہ لگانے اور مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر تیر مارنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3188]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر تیر مارنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3188]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اس کا مفہوم بھی مذکورہ بالا حدیث کے مطابق ہے۔
ذبح کرنے کے لیے اس کی ٹانگیں باندھنا تاکہ بے قابو نہ ہوجائے، اس ممانعت میں شامل نہیں۔
فوائد و مسائل:
اس کا مفہوم بھی مذکورہ بالا حدیث کے مطابق ہے۔
ذبح کرنے کے لیے اس کی ٹانگیں باندھنا تاکہ بے قابو نہ ہوجائے، اس ممانعت میں شامل نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3188]
Sahih Muslim Hadith 5063 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري