صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
95. باب كون هذه الامة نصف اهل الجنة:
باب: جنت کے آدھے لوگ اس امت کے ہوں گے۔
ترقیم عبدالباقی: 221 ترقیم شاملہ: -- 529
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: فَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: فَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، مَا الْمُسْلِمُونَ فِي الْكُفَّارِ، إِلَّا كَشَعْرَةٍ بَيْضَاءَ فِي ثَوْرٍ أَسْوَدَ أَوْ كَشَعْرَةٍ سَوْدَاءَ فِي ثَوْرٍ أَبْيَضَ ".
ابواحوص نے ابواسحاق سے حدیث سنائی، انہوں نے عمرو بن میمون سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم اہل جنت کا چوتھا حصہ ہو؟“ ہم نے (خوشی سے) اللہ اکبر کہا، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی نہ ہوگے کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو؟“ ہم نے (دوبارہ) نعرہ تکبیر بلند کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”میں امید کرتا ہوں کہ تم اہل جنت کا نصف ہو گے، اور (یہ کیسے ہو گا؟) میں اس کے بارے میں ابھی بتاؤں گا۔ کافروں (کے مقابلے) میں مسلمان اس سے زیادہ نہیں جتنے سیاہ رنگ کے بیل میں ایک سفید بال یا سفید رنگ کے بیل میں ایک۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 529]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ”کیا تم جنتیوں کا چوتھائی ہونے پر راضی ہو؟“ ہم نے (خوشی سے) اللہ اکبر کہا، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی نہیں ہو، کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو؟“ تو ہم نے اللہ اکبر کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے، تم جنتیوں کا نصف ہو گے اور میں تمہیں اس کا سبب بتاتا ہوں۔ مسلمانوں کی کافروں سے نسبت ایسی ہے، جیسے ایک سیاہ بیل میں ایک سفید بال ہو، یا ایک سفید بالوں والے بیل میں ایک سیاہ بال ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 529]
ترقیم فوادعبدالباقی: 221
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الرقاق، باب: الحشر برقم (6528) وفي الايمان والنذور، باب: كيف كانت یمین النبي صلى الله عليه وسلم برقم (6642) والترمذي في ((جامعه)) في ((صفة الجنة)) باب: ما جاء فى صفة اهل الجنة برقم (5247) وقال: هذا حديث حسن صحيح وابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: صفة امة محمد صلی اللہ علیہ وسلم برقم (4283) انظر ((التحفة)) برقم (9483)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6528
| أرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة وذلك أن الجنة لا يدخلها إلا نفس مسلمة وما أنتم في أهل الشرك إلا كالشعرة البيضاء في جلد الثور الأسود أو كالشعرة السوداء في جلد الثور الأحمر |
صحيح البخاري |
6642
| أرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة |
صحيح مسلم |
530
| أترضون أن تكونوا ربع أهل الجنة قال قلنا نعم فقال أترضون أن تكونوا ثلث أهل الجنة فقلنا نعم فقال والذي نفسي بيده إني لأرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة وذاك أن الجنة لا يدخلها إلا نفس مسلمة وما أنتم في أهل الشرك إلا كالشعرة البيضاء في جلد الثور الأسو |
صحيح مسلم |
529
| أما ترضون أن تكونوا ربع أهل الجنة قال فكبرنا ثم قال أما ترضون أن تكونوا ثلث أهل الجنة قال فكبرنا ثم قال إني لأرجو أن تكونوا شطر أهل الجنة وسأخبركم عن ذلك ما المسلمون في الكفار إلا كشعرة بيضاء في ثور أسود أو كشعرة سوداء في ثور أبيض |
سنن ابن ماجه |
4283
| أترضون أن تكونوا ربع أهل الجنة قلنا بلى قال أترضون أن تكونوا ثلث أهل الجنة قلنا نعم قال والذي نفسي بيده إني لأرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة وذلك أن الجنة لا يدخلها إلا نفس مسلمة وما أنتم في أهل الشرك إلا كالشعرة البيضاء في جلد الثور الأسود أو كا |
المعجم الصغير للطبراني |
835
| أهل الجنة عشرون ومائة صف أمتي منها ثمانون صفا |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 529 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 529
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کافروں کی تعداد مسلمانوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے،
اور ہر نبیؑ کے دور میں کافر زیادہ رہے ہیں،
اگر پہلے انبیاءؑ کے ادوار میں کافروں کی تعداد کم ہوتی،
تو ان کے امتیوں کی زیادہ تعداد جنت میں ہوتی اور ہم اہل جنت کا نصف نہ بن سکتے۔
(2)
آپ نے اہل جنت میں مسلمانوں کی تعداد بتدریج بتائی ہے،
پہلی ہی دفعہ نہیں فرمایا:
کہ تم نصف ہو گے،
تاکہ صحابہ کرامؓ کی مسرت وشاد مانی میں اضافہ ہو اور تکرار بشارت سے ان کے احسان کی شکر گزاری کا جذبہ قوی ہو،
اور اس کی عظمت وجلالت میں جاگزیں ہو۔
ایک اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
جو ترمذی اور طبرانی میں ہے کہ اہل جنت کی ایک سو بیس (120)
صفیں ہوں گی اور ان میں امت محمدیہ کی صفیں اسی (80)
ہوں گی،
جس سے معلوم ہوا،
مسلمان جنتیوں کا دو تہائی ہوں گے۔
(فتح الملھم: 1/381)
فوائد ومسائل:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کافروں کی تعداد مسلمانوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے،
اور ہر نبیؑ کے دور میں کافر زیادہ رہے ہیں،
اگر پہلے انبیاءؑ کے ادوار میں کافروں کی تعداد کم ہوتی،
تو ان کے امتیوں کی زیادہ تعداد جنت میں ہوتی اور ہم اہل جنت کا نصف نہ بن سکتے۔
(2)
آپ نے اہل جنت میں مسلمانوں کی تعداد بتدریج بتائی ہے،
پہلی ہی دفعہ نہیں فرمایا:
کہ تم نصف ہو گے،
تاکہ صحابہ کرامؓ کی مسرت وشاد مانی میں اضافہ ہو اور تکرار بشارت سے ان کے احسان کی شکر گزاری کا جذبہ قوی ہو،
اور اس کی عظمت وجلالت میں جاگزیں ہو۔
ایک اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
جو ترمذی اور طبرانی میں ہے کہ اہل جنت کی ایک سو بیس (120)
صفیں ہوں گی اور ان میں امت محمدیہ کی صفیں اسی (80)
ہوں گی،
جس سے معلوم ہوا،
مسلمان جنتیوں کا دو تہائی ہوں گے۔
(فتح الملھم: 1/381)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 529]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4283
امت محمدیہ کی صفات۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمے میں تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی اور خوش ہو گے کہ تمہاری تعداد جنت والوں کے چوتھائی ہو“، ہم نے کہا: کیوں نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم خوش ہو گے کہ تمہاری تعداد جنت والوں کے ایک تہائی ہو“، ہم نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تمہاری تعداد تمام اہل جنت کا نصف ہو گی، ایسا اس لیے ہے کہ جنت میں صرف مسلمان ہی جائے گا، اور مشرکین کے مقابلے میں ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4283]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمے میں تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی اور خوش ہو گے کہ تمہاری تعداد جنت والوں کے چوتھائی ہو“، ہم نے کہا: کیوں نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم خوش ہو گے کہ تمہاری تعداد جنت والوں کے ایک تہائی ہو“، ہم نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تمہاری تعداد تمام اہل جنت کا نصف ہو گی، ایسا اس لیے ہے کہ جنت میں صرف مسلمان ہی جائے گا، اور مشرکین کے مقابلے میں ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4283]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بتدریج کم سے زیادہ خوشخبری کا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح زیادہ خوشی حاصل ہوتی ہے۔
اور نعمت کی عظمت کا زیادہ احساس ہوتا ہے۔
(2)
امت محمدیہ کا زمانہ بھی طویل ہے اور افراد کی تعداد بھی زیادہ ہے اس لئے جنتیوں میں ان کی تعداد زیادہ ہوگی۔
فوائد و مسائل:
(1)
بتدریج کم سے زیادہ خوشخبری کا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح زیادہ خوشی حاصل ہوتی ہے۔
اور نعمت کی عظمت کا زیادہ احساس ہوتا ہے۔
(2)
امت محمدیہ کا زمانہ بھی طویل ہے اور افراد کی تعداد بھی زیادہ ہے اس لئے جنتیوں میں ان کی تعداد زیادہ ہوگی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4283]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 530
حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک خیمہ میں تقریباً چالیس افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم اہلِ جنت کا چوتھائی حصہ ہونے پر رضامند ہو؟“ ہم نے کہا: ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اہلِ جنت کا تہائی ہونے پر خوش ہو؟ “ تو ہم نے کہا: ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے، کہ تم اہلِ جنت کا نصف ہو گے، اور اس کی وجہ یہ ہے، کہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:530]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
کہ صرف ایماندار جنت میں داخل ہوں گے،
کوئی کافر جنت میں نہیں جائے گا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
کہ صرف ایماندار جنت میں داخل ہوں گے،
کوئی کافر جنت میں نہیں جائے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 530]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6528
6528. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک خیمے میں تھے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پرخوش ہو کہ اہل جنت کا ایک چوتھائی رہو؟“ ہم نے کہا: جی ہاں۔ پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس پر خوش ہو کہ اہل جنت کا تم نصف رہو؟“ ہم نے کہا:جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں امید رکھتا ہوں کہ تم اہل جنت کا نصف ہوگے۔ یہ اس لیے جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوں گے اور تم اہل شرک کے مقابلے میں اس طرح ہوگے جس طرح سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہو یا جسے سرخ بیل کے جسم پر ایک سیاہ بال ہو۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6528]
حدیث حاشیہ:
دوسری روایت میں یوں ہے جیسے سفید بیل میں ایک بال کالا ہو۔
مقصود یہ ہے کہ دنیا میں مشرکوں اور فاسقوں کی تعداد بہت زیادہ ہی رہی ہے اور اللہ کے موحد و مؤمن بندے ان مشرکوں اور کافروں سے ہمیشہ کم ہی رہے ہیں تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
قرآن مجید میں صاف مذکورہے ﴿وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ﴾ (سبا: 13)
میرے شکر گزار بندے تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔
عام طور پر یہی حال ہے اور مسلمانوں میں توحید و سنت والوں کی تعداد بھی ہمیشہ تھوڑی ہی چلی آ رہی ہے جو لوگ آج کل اہل سنت والجماعت کہلانے والے ہیں ان کی تعداد عرسوں اور تعزیوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔
مشرکین و مبتدعین بکثرت ملیں گے۔
اہل توحید، پابند شریعت، فدائے سنت بالکل اقل قلیل ہیں۔
اللہ پاک ہم کو توحید و سنت کا عامل اور اسلام کا سچا تابع فرمان بنائے۔
آمین۔
دوسری روایت میں یوں ہے جیسے سفید بیل میں ایک بال کالا ہو۔
مقصود یہ ہے کہ دنیا میں مشرکوں اور فاسقوں کی تعداد بہت زیادہ ہی رہی ہے اور اللہ کے موحد و مؤمن بندے ان مشرکوں اور کافروں سے ہمیشہ کم ہی رہے ہیں تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
قرآن مجید میں صاف مذکورہے ﴿وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ﴾ (سبا: 13)
میرے شکر گزار بندے تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔
عام طور پر یہی حال ہے اور مسلمانوں میں توحید و سنت والوں کی تعداد بھی ہمیشہ تھوڑی ہی چلی آ رہی ہے جو لوگ آج کل اہل سنت والجماعت کہلانے والے ہیں ان کی تعداد عرسوں اور تعزیوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔
مشرکین و مبتدعین بکثرت ملیں گے۔
اہل توحید، پابند شریعت، فدائے سنت بالکل اقل قلیل ہیں۔
اللہ پاک ہم کو توحید و سنت کا عامل اور اسلام کا سچا تابع فرمان بنائے۔
آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6528]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6528
6528. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک خیمے میں تھے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پرخوش ہو کہ اہل جنت کا ایک چوتھائی رہو؟“ ہم نے کہا: جی ہاں۔ پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس پر خوش ہو کہ اہل جنت کا تم نصف رہو؟“ ہم نے کہا:جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں امید رکھتا ہوں کہ تم اہل جنت کا نصف ہوگے۔ یہ اس لیے جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوں گے اور تم اہل شرک کے مقابلے میں اس طرح ہوگے جس طرح سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہو یا جسے سرخ بیل کے جسم پر ایک سیاہ بال ہو۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6528]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس عالم رنگ و بو میں کفار و فساق کی تعداد اہل ایمان کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے موحد بندے بہت تھوڑے رہے ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”میرے شکر گزار بندے تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔
“ (سبا: 34/13)
اس امر کی وضاحت ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں اَسی صفیں میری امت کی ہوں گی۔
“ (مسند أحمد: 347/5) (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں مسلمانوں کی تعداد تدریجاً ذکر کی تاکہ ان کی خوشی اور مسرت میں اضافہ ہوتا رہے۔
(1)
اس عالم رنگ و بو میں کفار و فساق کی تعداد اہل ایمان کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے موحد بندے بہت تھوڑے رہے ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”میرے شکر گزار بندے تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔
“ (سبا: 34/13)
اس امر کی وضاحت ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں اَسی صفیں میری امت کی ہوں گی۔
“ (مسند أحمد: 347/5) (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں مسلمانوں کی تعداد تدریجاً ذکر کی تاکہ ان کی خوشی اور مسرت میں اضافہ ہوتا رہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6528]
عمرو بن ميمون الأودي ← عبد الله بن مسعود