صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب جواز قوله لغير ابنه يا بني واستحبابه للملاطفة:
باب: غیر کے لڑکے کو بیٹا کہنا اور ایسے کلمہ کو مہربانی کے طور پر مستحب ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 2152 ترقیم شاملہ: -- 5625
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحدثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ، قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُغِيرَةِ أَيْ بُنَيَّ إِلَّا فِي حَدِيثِ يَزِيد َ وَحْدَهُ.
وکیع، ہشیم، جریر اور ابواسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، ان میں سے تنہا یزید کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مغیرہ رضی اللہ عنہ کے لیے (اے میرے بیٹے) کے الفاظ ہیں اور کسی کی حدیث میں نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5625]
امام صاحب کے مختلف اساتذہ، چار سندوں سے یہی روایت سناتے ہیں اور ان میں سے صرف یزید ہی کی روایت میں، مغیرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہے ”اے بیٹے!“ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5625]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2152
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
حماد بن أسامة القرشي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي