صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب الاستئذان:
باب: اذن چاہنے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2153 ترقیم شاملہ: -- 5626
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا وَاللَّهِ يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا بِالْمَدِينَةِ فِي مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ، فَأَتَانَا أَبُو مُوسَى فَزِعًا أَوْ مَذْعُورًا، قُلْنَا مَا شَأْنُكَ، قَالَ: إِنَّ عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُ بَابَهُ، فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَرَجَعْتُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا؟ فَقُلْتُ: إِنِّي أَتَيْتُكَ فَسَلَّمْتُ عَلَى بَابِكَ ثَلَاثًا، فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَيَّ، فَرَجَعْتُ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ "، فَقَالَ عُمَرُ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ وَإِلَّا أَوْجَعْتُكَ، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: لَا يَقُومُ مَعَهُ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قُلْتُ: أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، قَالَ: فَاذْهَبْ بِهِ.
عمرو بن محمد بن بکیر ناقد نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، کہا: اللہ کی قسم! ہمیں یزید بن خصیفہ نے بسر بن سعید سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: میں مدینہ منورہ میں انصار کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابوموسیٰ ڈرے سہمے ہوئے آئے، ہم نے ان سے پوچھا آپ کو کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا ہے کہ میں ان کے پاس آؤں، میں ان کے دروازے پر گیا اور تین مرتبہ سلام کیا انہوں نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا تو میں لوٹ آیا، انہوں نے کہا: آپ کو ہمارے پاس آنے سے کس بات نے روکا؟ میں نے کہا: میں آیا تھا، آپ کے دروازے پر کھڑے تین بار سلام کیا، آپ لوگوں نے مجھے جواب نہیں دیا، اس لیے میں لوٹ گیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص تین بار اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ دی جائے تو وہ لوٹ جائے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس پر گواہی پیش کرو ورنہ میں تم کو سزا دوں گا۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کے ساتھ صرف وہ شخص جا کر کھڑا ہوگا جو قوم میں سے سب سے کم عمر ہے، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا کہ میں سب سے کم عمر ہوں تو انہوں نے کہا: تم ان کے ساتھ جاؤ (اور گواہی دو)۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5626]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں مدینہ میں انصار کی مجلس میں بیٹھا ہوا تو ہمارے پاس حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ گھبرائے ہوئے یا خوف زدہ آئے، ہم نے پوچھا، آپ کو کیا ہوا؟ انہوں نے کہا، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے مجھے پیغام بھیجا کہ میں ان کے پاس حاضر ہوں، سو میں ان کی خدمت میں ان کے دروازہ پر پہنچا اور تین دفعہ سلام کہا تو انہوں نے جواب نہ دیا، جس سے میں واپس چلا گیا تو انہوں نے کہا، تم ہمارے پاس کیوں نہیں آئے؟ میں نے کہا، میں آپ کے پاس آیا تھا اور آپ کے دروازہ پر تین دفعہ سلام عرض کیا تو گھر والوں نے مجھے جواب نہ دیا، اس وجہ سے میں واپس چلا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں، ”جب تم میں سے کوئی تین دفعہ اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ واپس لوٹ جائے۔“ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اس پر شہادت پیش کرو وگرنہ میں تمہیں سزا دوں گا، تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، ان کے ساتھ حاضرین میں سے سب سے کم عمر جائے گا، ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، میں نے کہا میں سب لوگوں سے چھوٹا ہوں، حضرت ابی نے کہا، اسے لے جاؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5626]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2153
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5629
| الاستئذان ثلاث |
صحيح مسلم |
5628
| الاستئذان ثلاث فإن أذن لك وإلا فارجع |
صحيح مسلم |
5626
| إذا استأذن أحدكم ثلاثا فلم يؤذن له فليرجع |
جامع الترمذي |
2690
| الاستئذان ثلاث فإن أذن لك وإلا فارجع |
سنن أبي داود |
5180
| إذا استأذن أحدكم ثلاثا فلم يؤذن له فليرجع |
سنن ابن ماجه |
3706
| استأذنت الاستئذان الذي أمرنا به رسول الله ثلاثا فإن أذن لنا دخلنا وإن لم يؤذن لنا رجعنا |
مسندالحميدي |
751
| إذا استأذن أحدكم ثلاثا فلم يؤذن له فليرجع |
مسندالحميدي |
791
| إذا استأذن أحدكم ثلاثا فلم يؤذن له، فليرجع |
أبو سعيد الخدري ← عبد الله بن قيس الأشعري