🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب تحريم النظر في بيت غيره:
باب: غیر کے گھر میں جھانکنا حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2158 ترقیم شاملہ: -- 5643
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ، فَخَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی شخص اجازت کے بغیر تمہارے ہاں جھانکے اور تم کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے (کوئی سزا یا جرمانہ نہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5643]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی انسان تمہاری اجازت کے بغیر تم پر جھانکے اور تم اس کو کنکر مار کر، اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پر کوئی گناہ یا تنگی نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5643]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2158
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت عالم
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن ذكوان القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
إمام ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الله بن ذكوان القرشي
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن أبي عمر العدني، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي عمر العدني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6888
لو اطلع في بيتك أحد ولم تأذن له خذفته بحصاة ففقأت عينه ما كان عليك من جناح
صحيح البخاري
6902
لو أن امرأ اطلع عليك بغير إذن فخذفته بعصاة ففقأت عينه لم يكن عليك جناح
صحيح مسلم
5643
لو أن رجلا اطلع عليك بغير إذن فخذفته بحصاة ففقأت عينه ما كان عليك من جناح
صحيح مسلم
5642
من اطلع في بيت قوم بغير إذنهم فقد حل لهم أن يفقئوا عينه
سنن أبي داود
5172
من اطلع في دار قوم بغير إذنهم ففقئوا عينه فقد هدرت عينه
سنن النسائى الصغرى
4865
لو أن امرأ اطلع عليك بغير إذن فخذفته ففقأت عينه ما كان عليك حرج
سنن النسائى الصغرى
4864
من اطلع في بيت قوم بغير إذنهم ففقئوا عينه فلا دية له ولا قصاص
المعجم الصغير للطبراني
1175
من اطلع في بيت قوم بغير إذنهم فقد حل أن يفقئوا عينه
بلوغ المرام
1029
لو أن امرأ اطلع عليك بغير إذن فحذفته بحصاة ففقأت عينه لم يكن عليك جناح
مسندالحميدي
1109
لو أن امرأ اطلع عليك بغير إذن، فخذفته بحصاة، ففقأت عينه ما كان عليك جناح
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5643 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5643
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
فقاء العين:
آنکھ پھوڑنا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5643]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1029
مجرم (بدنی نقصان پہنچانے والے) سے لڑنے اور مرتد کو قتل کرنے کا بیان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی مرد تیرے گھر بغیر اجازت کے جھانکے (نظر ڈالے) اور تو کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دے تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔ (بخاری و مسلم) احمد اور نسائی کے الفاظ ہیں جسے ابن حبان نے صحیح کہا ہے کہ نہ اس کی دیت ہے اور نہ قصاص۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1029»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الديات، باب من الطلع في بيت قوم ففقؤوا عينه فلا دية له، حديث:6902، ومسلم، الأداب، باب تحريم النظر في بيت غيره، حديث:2158، وأحمد:2 /243، والنسائي، القسامة، حديث:4864، وابن حبان (الإحسان):7 /597.»
تشریح:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص اس غلطی کا ارتکاب کرے اور صاحب مکان کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دے تو اس پر قصاص ہے نہ دیت۔
کیونکہ اس شخص نے دوسرے کی پردہ داری کو نقصان پہنچایا اور صاحب مکان کی خلوت و تنہائی میں دخل اندازی کی ہے۔
ائمۂ ثلاثہ کا یہی مذہب ہے‘ البتہ امام مالک رحمہ اللہ اس کی دیت دینے کے قائل ہیں مگر یہ صحیح نہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1029]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4864
سلطان (حکمراں) کو بتائے بغیر جو شخص اپنا بدلہ خود لے لے؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں جھانکے، پھر وہ اس کی آنکھ پھوڑ دے، تو جھانکنے والا نہ دیت لے سکے گا نہ بدلہ۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4864]
اردو حاشہ:
(1) امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اسی قسم کا باب قائم کیا ہے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ جان سے کم کا قصاص لینے کی گنجائش تو ہو سکتی ہے۔ اسی طرح مالی معاملات میں اپنا حق وصول کیا جا سکتا ہے مگر حدود وقصاص حکومت ہی کی ذمہ داری ہے ورنہ خانہ جنگی چھڑ سکتی ہے۔ اگر لوگ خود ہی قتل کرنے لگیں اور ہاتھ پاؤں کاٹنے لگیں تو امن وامان کیسے قائم رہے گا؟ باقی رہی یہ حدیث تو یہ صرف مذکورہ صورت کے ساتھ خاص ہوگی، یعنی اگر کوئی کسی کے گھر جھانکتا ہو تو اس کی آنکھ موقع پر پھوڑی جا سکتی ہے، تاہم اگر وہ موقع پر بچ جاتا ہے تو بعد میں اس کی آنکھ نہیں پھوڑی جائے گی۔
(2) جب دوسرے کے گھر جھانکنا حرام ہے تو ایسے مکانات بنانا کہ ہمسائیوں کے گھر کا پردہ ہی ختم ہو جائے، بالاولیٰ حرام ہوگا۔ دور حاضر میں یہ طریقہ وبا اختیار کر چکا ہے کہ ایک شخص لاکھوں روپے خرچ کر کے مکان بناتا ہے تو دوسرا اس سے بھی اونچا کر کے بناتا ہے کہ پہلا شخص پھر نئی تعمیر پر مجبور ہو جاتا ہے۔ حکومت کو اس کے لیے ضرور قانون سازی کر کے اس پر عمل درآمد کرانا چاہیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4864]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4865
سلطان (حکمراں) کو بتائے بغیر جو شخص اپنا بدلہ خود لے لے؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی بلا اجازت تمہارے یہاں جھانکے پھر تم اسے پتھر پھینک کر مارو اور اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا۔‏‏‏‏ اور ایک بار آپ نے فرمایا: کوئی گناہ نہیں ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4865]
اردو حاشہ:
جھانکنے والا تب مجرم ہے اگر وہ بند دروازے سے دیکھنے کی کوشش کرے یا پردہ اٹھا کر دیکھے لیکن اگر دروازہ کھلا ہو اور اس کے سامنے کوئی پردہ نہ ہو تو پھر جھانکنے والا مجرم نہیں بلکہ گھر والے مجرم ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4865]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6888
6888. پہلی سند ہی سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی شخص تمہارے گھر میں تمہاری اجازت کے بغیر جھانک رہا اور تم اسے کنکری مارو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی سزا نہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6888]
حدیث حاشیہ:
نہ گناہ ہوگا نہ دنیا کی کوئی سزا لاگو ہوگی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6888]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6902
6902. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ابو القاسم نے فرمایا: اگر کوئی شخص تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں جھانک کر دیکھے تو تم کنکری سے اس کی آنکھ پھوڑ دو، اس پر تجھے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6902]
حدیث حاشیہ:
اور نہ اس پر دیت ہی دی جائے گی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6902]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6902
6902. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ابو القاسم نے فرمایا: اگر کوئی شخص تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں جھانک کر دیکھے تو تم کنکری سے اس کی آنکھ پھوڑ دو، اس پر تجھے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6902]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے:
جو انسان کسی کے گھر اجازت کے بغیر تاک جھانک کرتا ہے، اہل خانہ کے لیے حلال ہے کہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔
(مسند أحمد: 266/2)
حلال ہونے سے اس بات کا ثبوت ہے کہ اس پر کوئی تاوان یا قصاص نہیں ہوگا۔
ایک دوسری روایت میں ہے:
ــاس کی آنکھ رائیگاں (ضائع)
ہے۔
'' (مسند أحمد: 214/2)
ایک دوسری روایت میں صراحت ہے:
آنکھ پھوڑ دینے پر کوئی قصاص یا دیت واجب نہیں ہوگی۔
(مسند أحمد: 385/2) (2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی نے دروازہ بند کیا ہو یا اس پر پردہ وغیرہ لٹکایا ہو تو گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت لینا ضروری ہے۔
اگر کوئی خفیہ طور پر گھر میں جھانکتا ہے تو کوئی بھی چیز مارنا جائز ہے، اس سے اگر کوئی عضو ضائع ہو جائے تو اس پر کوئی جرمانہ نہیں اور مارنے سے پہلے جھانکنے والے کو خبردار کرنا بھی ضروری نہیں۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6902]