صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب جواز جعل الإذن رفع حجاب او نحوه من العلامات:
باب: یہ بھی اجازت مانگنے کی ایک شکل ہے کہ پردہ اٹھائے۔
ترقیم عبدالباقی: 2169 ترقیم شاملہ: -- 5666
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يقول: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ يُرْفَعَ الْحِجَابُ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ ".
عبدالواحد بن زیاد نے کہا: ہمیں حسن بن عبیداللہ نے حدیث بیان کی۔ کہا: ہمیں ابراہیم بن سوید نے حدیث سنائی کہا: میں نے عبدالرحمن بن یزید سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تمہارے لیے میرے پاس آنے کی یہی اجازت ہے کہ حجاب اٹھا دیا جائے اور تم میری راز کی بات سن لو، (یہ اجازت اس وقت تک ہے) حتی کہ میں تمہیں روک دوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5666]
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”تیرے لیے میری یہی اجازت ہے کہ پردہ اٹھا دیا جائے اور تم میری سرگوشی سن لو، حتی کہ میں تمہیں روک دوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5666]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2169
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5666
| إذنك علي أن يرفع الحجاب وأن تستمع سوادي حتى أنهاك |
سنن ابن ماجه |
139
| إذنك علي أن ترفع الحجاب وأن تسمع سوادي حتى أنهاك |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5666 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5666
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
تستمع سوادي:
تم میری سرگوشی اور رازدارانہ گفتگو سن لو اور تمھیں میری موجودگی کا علم ہوجائے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
کسی کو اجازت دینے کے لیے کوئی علامت یا نشانی مقرر کی جا سکتی ہے،
اسی علامت کے طور پر آپ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرمایا،
تیری آمد پر اگر پردہ اٹھا دیا جائے اور گھر میں میری موجودگی کا تمہیں یقین ہو جائے تو تم بلا روک ٹوک آ سکتے ہو۔
مفردات الحدیث:
تستمع سوادي:
تم میری سرگوشی اور رازدارانہ گفتگو سن لو اور تمھیں میری موجودگی کا علم ہوجائے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
کسی کو اجازت دینے کے لیے کوئی علامت یا نشانی مقرر کی جا سکتی ہے،
اسی علامت کے طور پر آپ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرمایا،
تیری آمد پر اگر پردہ اٹھا دیا جائے اور گھر میں میری موجودگی کا تمہیں یقین ہو جائے تو تم بلا روک ٹوک آ سکتے ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5666]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث139
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں میرے گھر آنے کی اجازت یہی ہے کہ تم پردہ اٹھاؤ، اور یہ کہ میری آواز سن لو، الا یہ کہ میں تمہیں خود منع کر دوں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 139]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں میرے گھر آنے کی اجازت یہی ہے کہ تم پردہ اٹھاؤ، اور یہ کہ میری آواز سن لو، الا یہ کہ میں تمہیں خود منع کر دوں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 139]
اردو حاشہ:
(1)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتے تھے۔
کام کاج کے لیے اکثر حاضر ہونا پڑتا تھا، چنانچہ ان کے لیے اِستیذان کے حکم میں نرمی کر دی گئی۔
قرآن مجید میں غلاموں اور لونڈیوں کو بھی تین اوقات کے علاوہ باقی کسی بھی وقت آنے جانے کے لیے بار بار اجازت مانگنے سے معاف رکھا گیا ہے۔ (سورہ نور: 58)
(1)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتے تھے۔
کام کاج کے لیے اکثر حاضر ہونا پڑتا تھا، چنانچہ ان کے لیے اِستیذان کے حکم میں نرمی کر دی گئی۔
قرآن مجید میں غلاموں اور لونڈیوں کو بھی تین اوقات کے علاوہ باقی کسی بھی وقت آنے جانے کے لیے بار بار اجازت مانگنے سے معاف رکھا گیا ہے۔ (سورہ نور: 58)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 139]
Sahih Muslim Hadith 5666 in Urdu
عبد الرحمن بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود