صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
32. باب الطاعون والطيرة والكهانة ونحوها:
باب: طاعون، بدفالی اور کہانت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2219 ترقیم شاملہ: -- 5785
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْد ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ، قال: وَقَالَ لَهُ أَيْضًا: أَرَأَيْتَ أَنَّهُ لَوْ رَعَى الْجَدْبَةَ وَتَرَكَ الْخَصْبَةَ أَكُنْتَ مُعَجِّزَهُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَسِرْ إِذًا قَالَ، فَسَارَ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ، فَقَالَ: هَذَا الْمَحِلُّ، أَوَ قَالَ: هَذَا الْمَنْزِلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ،
معمر نے ہمیں اسی سند کے ساتھ مالک کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور معمر کی حدیث میں یہ الفاظ زائد بیان کیے، کہا: اور انہوں (حضرت عمر رضی اللہ عنہما) نے ان (ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ) سے یہ بھی کہا: آپ کا کیا حال ہے کہ اگر وہ (اونٹ) بنجر کنارے پر چرے اور سرسبز کنارے کو چھوڑ دے تو کیا آپ اسے اس کے عجز اور غلطی پر محمول کریں گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو پھر چلیں۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) کہا: وہ چل کر مدینہ آئے اور کہا: ان شاء اللہ! یہی (کجاوے) کھولنے کی، یا کہا: یہی اترنے کی جگہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5785]
امام صاحب کے تین اور اساتذہ یہی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں یہ اضافہ ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے یہ بھی کہا، بتائیے، اگر وہ سرسبز و شاداب جگہ کو چھوڑ کر بے آب و گیاہ، بنجر علاقہ میں مویشی چرائے، کیا تم اسے عاجز و بے بس قرار دو گے؟ ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، ہاں، کہا تو تب چلئے تو حضرت عمر روانہ ہو گئے، حتی کہ مدینہ پہنچ گئے اور کہنے لگے، یہی محل اور موقع ہے، ان شاءاللہ۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5785]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2219
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5785 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5785
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اگر ایک انسان سرسبز و شاداب جگہ کو چھوڑ کر بنجر علاقہ میں مویشی چراتا ہے تو لوگ اس کو عاجز یا بے بس اور مجبورسمجھ کر طعن و تشنیع اور ملامت سے باز نہیں آئیں گے،
بلکہ اس پر تنقید و تبصرہ کریں گے تو میں اپنی رعایا کے مفادات کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہوں اور ان کے لیے حزم و احتیاط اپنانے سے بے بسی اور مجبوری کا اظہار کیسے کر سکتا ہوں،
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کو تسلیم کر لیا اور کہنے لگے چلو،
جس سے معلوم ہوا،
صاحب رائے کو ہر حالت میں اپنے رائے پر اڑنا نہیں چاہیے،
اگر دوسروں کی رائے درست ہو تو اس کو خندہ پیشانی سے تسلیم کر لینا چاہیے۔
فوائد ومسائل:
اگر ایک انسان سرسبز و شاداب جگہ کو چھوڑ کر بنجر علاقہ میں مویشی چراتا ہے تو لوگ اس کو عاجز یا بے بس اور مجبورسمجھ کر طعن و تشنیع اور ملامت سے باز نہیں آئیں گے،
بلکہ اس پر تنقید و تبصرہ کریں گے تو میں اپنی رعایا کے مفادات کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہوں اور ان کے لیے حزم و احتیاط اپنانے سے بے بسی اور مجبوری کا اظہار کیسے کر سکتا ہوں،
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کو تسلیم کر لیا اور کہنے لگے چلو،
جس سے معلوم ہوا،
صاحب رائے کو ہر حالت میں اپنے رائے پر اڑنا نہیں چاہیے،
اگر دوسروں کی رائے درست ہو تو اس کو خندہ پیشانی سے تسلیم کر لینا چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5785]
عبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي