صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب استحباب إطالة الغرة والتحجيل في الوضوء:
باب: اعضاء وضو کو چمکانے کے لیے مقررہ حد سے زیادہ دھونے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 247 ترقیم شاملہ: -- 581
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ حَوْضِي أَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ، لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ بِاللَّبَنِ، وَلَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ، وَإِنِّي لَأَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ، كَمَا يَصُدُّ الرَّجُلُ إِبِلَ النَّاسِ عَنْ حَوْضِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَعْرِفُنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، لَكُمْ سِيمَا، لَيْسَتْ لِأَحَدٍ مِنَ الأُمَمِ تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ ".
مروان نے ابومالک اشجعی سعد بن طارق سے، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا حوض عدن سے ایلہ تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے اور (اس کا پانی) برف سے زیادہ سفید اور شہد سے ملے دودھ سے زیادہ شیریں ہے اور اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں، (یہ خالصتاً میری امت کے لیے ہے، اس لیے) میں (امت کے علاوہ دوسرے) لوگوں کو اس سے روکوں گا، جیسے آدمی اپنے حوض سے لوگوں کے اونٹوں کو روکتا ہے۔“ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا اس دن آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، تمہاری ایک علامت ہو گی جو دوسری کسی امت کی نہیں ہو گی، تم وضو کے اثر سے چمکتے ہوئے چہرے اور ہاتھ پاؤں کے ساتھ میرے پاس آؤ گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 581]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا حوض عدن سے ایلہ تک کے فاصلہ سے زیادہ بڑا ہے، اور (اس کا پانی) یقیناً برف سے زیادہ سفید اور شہد ملے ہوئے دودھ سے زیادہ شیریں ہے، اور اس کے برتنوں کی تعداد یقیناً ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہے، اور میں لوگوں کو اس سے روکوں گا جس طرح ایک انسان اپنے حوض سے دوسرے لوگوں کے اونٹوں کو روکتا ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا اس دن آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں! تمہارے لیے ایک علامت ہو گی، جو دوسری کسی امت میں نہیں ہو گی، تم میرے پاس وضو کے اثر سے روشن چہرے اور چمک دار ہاتھ پاؤں سے پہنچو گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 581]
ترقیم فوادعبدالباقی: 247
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: صفة امة محمد صلی اللہ علیہ وسلم برقم (4282) انظر ((التحفة)) برقم (13399)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سلمان مولى عزة، أبو حازم سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥سعد بن طارق الأشجعي، أبو مالك سعد بن طارق الأشجعي ← سلمان مولى عزة | ثقة | |
👤←👥مروان بن معاوية الفزاري، أبو عبد الله مروان بن معاوية الفزاري ← سعد بن طارق الأشجعي | ثقة حافظ وكان يدلس أسماء الشيوخ | |
👤←👥محمد بن أبي عمر العدني، أبو عبد الله محمد بن أبي عمر العدني ← مروان بن معاوية الفزاري | ثقة | |
👤←👥سويد بن سعيد الهروي، أبو محمد سويد بن سعيد الهروي ← محمد بن أبي عمر العدني | صدوق يخطئ كثيرا |
سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي