صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
37. باب قتل الحيات وغيرها:
باب: سانپوں وغیرہ کو مارنے کا بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2233 ترقیم شاملہ: -- 5828
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ كَلَّمَ ابْنَ عُمَرَ لِيَفْتَحَ لَهُ بَابًا فِي دَارِهِ يَسْتَقْرِبُ بِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَجَدَ الْغِلْمَةُ جِلْدَ جَانٍّ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: الْتَمِسُوهُ فَاقْتُلُوهُ، فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ : لَا تَقْتُلُوهُ فَإِنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ ".
لیث بن سعد نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بات کی کہ وہ ان کے لیے اپنے گھر (کے احاطے) میں ایک دروازہ کھول دیں جس سے وہ مسجد کے قریب آجائیں تو لڑکوں کو سانپ کی ایک کینچلی ملی، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کو قتل مت کرو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چھپے ہوئے سانپوں کے مارنے سے منع فرمایا ہے جو گھروں کے اندر ہوتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5828]
نافع سے روایت ہے کہ ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے گفتگو کی کہ ان کے لیے اپنے گھر میں دروازہ کھول دیں، اس سے وہ مسجد کے قریب ہو جائیں گے تو بچوں نے وہاں ایک سانپ کی کنج یا کینچلی پائی، اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اس کو تلاش کر کے قتل کر دو تو ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اسے قتل نہ کرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا ہے، جو گھروں میں رہتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5828]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2233
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو لبابة الأنصاري، أبو لبابة | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← أبو لبابة الأنصاري | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← قتيبة بن سعيد الثقفي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥محمد بن رمح التجيبي، أبو عبد الله محمد بن رمح التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3313
| نهى عن قتل جنان البيوت فأمسك عنها |
صحيح مسلم |
5830
| عن قتل الجنان |
صحيح مسلم |
5833
| عن قتل الجنان التي تكون في البيوت إلا الأبتر وذا الطفيتين فإنهما اللذان يخطفان البصر ويتتبعان ما في بطون النساء |
صحيح مسلم |
5828
| عن قتل الجنان التي في البيوت |
صحيح مسلم |
5831
| عن قتل الجنان التي في البيوت |
صحيح مسلم |
5829
| عن قتل جنان البيوت فأمسك |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5828 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5828
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
جنان:
جان کی جمع ہے،
سفید اور باریک یا دبلا پتلا سانپ۔
مفردات الحدیث:
جنان:
جان کی جمع ہے،
سفید اور باریک یا دبلا پتلا سانپ۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5828]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3313
3313. انھیں حضرت ابولبابہ ؓنے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے تو وہ ان کے قتل کرنے سے رُک گئے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3313]
حدیث حاشیہ:
حضرت امام بخاری ؒنے ابھی پیچھے آیت شریفہ ﴿وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ ﴾(البقرہ: 164)
کے ذیل باب منعقد فرمایا تھا۔
ان جملہ احادیث کا تعلق اسی باب کے ساتھ ہے۔
درمیان میں بکری کا ضمنی طور پر ذکر آگیا تھا۔
اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کے لیے الگ باب باندھنا مناسب جانا۔
پھر بکری کی احادیث کے بعد باب زیر آیت ﴿وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ ﴾ (البقرہ: 164)
کے ذیل ان جملہ احادیث کو لائے جن میں حیوانات کی مختلف قسموں کا ذکر ہوا ہے۔
فتدبر وفقك اللہ
حضرت امام بخاری ؒنے ابھی پیچھے آیت شریفہ ﴿وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ ﴾(البقرہ: 164)
کے ذیل باب منعقد فرمایا تھا۔
ان جملہ احادیث کا تعلق اسی باب کے ساتھ ہے۔
درمیان میں بکری کا ضمنی طور پر ذکر آگیا تھا۔
اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کے لیے الگ باب باندھنا مناسب جانا۔
پھر بکری کی احادیث کے بعد باب زیر آیت ﴿وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ ﴾ (البقرہ: 164)
کے ذیل ان جملہ احادیث کو لائے جن میں حیوانات کی مختلف قسموں کا ذکر ہوا ہے۔
فتدبر وفقك اللہ
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3313]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3313
3313. انھیں حضرت ابولبابہ ؓنے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے تو وہ ان کے قتل کرنے سے رُک گئے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3313]
حدیث حاشیہ:
1۔
ان روایات میں مختلف سانپوں کاذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒنے انھیں بیان کیا ہے۔
2۔
سلخ کے معنی وہ کینچلی ہے جو سانپ اتارپھینکتا ہے۔
وہ ملائم کاغذ کی طرح ہوتی ہے۔
الجان ان سانپوں کو کہا جاتا ہے جو گھروں میں رہتے ہیں اور سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔
ان کے متعلق تفصیل ہم پہلے ذکر کرآئے ہیں۔
3۔
سابقہ احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ دودھاری اور دم کٹے سانپوں کی دوقسمیں ہیں جبکہ حدیث 3310۔
سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک ہی قسم ہے کیونکہ ان کے درمیان حرف عطف نہیں۔
ہمارے رجحان کے مطابق سانپوں کے متعلق یہ دووصف کبھی تو ایک ہی سانپ میں جمع ہوتے ہیں اور کبھی علیحدہ علیحدہ دو سانپوں میں پائے جاتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہردوقسموں کے لیے ہے۔
اور واؤعطف کبھی کبھی دووصف کو بھی جمع کرتی ہے، اس بنا پر حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اس سانپ کو مارو جو دُم کٹا اور دودھاری ہو۔
واللہ أعلم۔
1۔
ان روایات میں مختلف سانپوں کاذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒنے انھیں بیان کیا ہے۔
2۔
سلخ کے معنی وہ کینچلی ہے جو سانپ اتارپھینکتا ہے۔
وہ ملائم کاغذ کی طرح ہوتی ہے۔
الجان ان سانپوں کو کہا جاتا ہے جو گھروں میں رہتے ہیں اور سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔
ان کے متعلق تفصیل ہم پہلے ذکر کرآئے ہیں۔
3۔
سابقہ احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ دودھاری اور دم کٹے سانپوں کی دوقسمیں ہیں جبکہ حدیث 3310۔
سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک ہی قسم ہے کیونکہ ان کے درمیان حرف عطف نہیں۔
ہمارے رجحان کے مطابق سانپوں کے متعلق یہ دووصف کبھی تو ایک ہی سانپ میں جمع ہوتے ہیں اور کبھی علیحدہ علیحدہ دو سانپوں میں پائے جاتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہردوقسموں کے لیے ہے۔
اور واؤعطف کبھی کبھی دووصف کو بھی جمع کرتی ہے، اس بنا پر حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اس سانپ کو مارو جو دُم کٹا اور دودھاری ہو۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3313]
نافع مولى ابن عمر ← أبو لبابة الأنصاري