صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
38. باب استحباب قتل الوزغ:
باب: گرگٹ مارنا مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2238 ترقیم شاملہ: -- 5844
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قالا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا ".
عامر بن سعد نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مار دینے کا حکم دیا اور اس کا نام چھوٹی فاسق رکھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5844]
حضرت عامر بن سعد اپنے والد (حضرت سعد رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اسے ” «فُوَيْسِق» (چھوٹا فاسق)“ کا نام دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5844]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2238
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاق | صحابي | |
👤←👥عامر بن سعد القرشي عامر بن سعد القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عامر بن سعد القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر عبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة حافظ | |
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد عبد بن حميد الكشي ← عبد الرزاق بن همام الحميري | ثقة حافظ | |
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب إسحاق بن راهويه المروزي ← عبد بن حميد الكشي | ثقة حافظ إمام |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5844
| أمر بقتل الوزغ وسماه فويسقا |
سنن أبي داود |
5262
| أمر بقتل الوزغ وسماه فويسقا |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5844 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5844
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
فسق کا معنی نکلنا ہے اور یہ موذی اور نقصان دہ ہونے کے سبب دوسرے جانداروں کی طبیعت و مزاج سے باہر ہے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم میں قتل کرنے کی اجازت ملنے والے جانداروں کو فاسق کا نام دیا ہے۔
فوائد ومسائل:
فسق کا معنی نکلنا ہے اور یہ موذی اور نقصان دہ ہونے کے سبب دوسرے جانداروں کی طبیعت و مزاج سے باہر ہے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم میں قتل کرنے کی اجازت ملنے والے جانداروں کو فاسق کا نام دیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5844]
Sahih Muslim Hadith 5844 in Urdu
عامر بن سعد القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري